مسٹر برلا نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں واقع سمودھان سدن کے مرکزی ہال میں 12ویں برکس پارلیمانی فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے پارلیمانی وفود کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں ان وفود کی موجودگی اور جمہوری اقدار کے تئیں ان کا مشترکہ عزم خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ برکس کے قیام کے 20 سال مکمل ہونا اس کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برکس ممالک دنیا کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں اور دنیا کے تقریباً ایک تہائی رقبے پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کی توسیع کے ساتھ عالمی حالات اور بین الاقوامی تعلقات پر اثر انداز ہونے کی اس کی صلاحیت بھی بڑھ رہی ہے۔
مسٹر برلا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ برکس سربراہ اجلاس میں مشترکہ اعلامیے کو اتفاق رائے سے منظور کیے جانے کو ایک اہم کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اب ان مشترکہ عہد و پیمان کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی تنازعات، اقتصادی عدم استحکام، دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجوں کا حل مکالمے، سفارت کاری اور پارلیمانی تعاون کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستان کو مادرِ جمہوریت قرار دیتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت کی مضبوطی مکالمے، نظریاتی تنوع اور اتفاق و اختلاف کے درمیان باہمی احترام میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس کی اصل طاقت تنوع کو مشترکہ مقصد میں تبدیل کرنے میں ہے اور رکن ممالک کو مشترکہ امنگوں کو ٹھوس پالیسیوں اور عملی تعاون میں بدلنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’عوام پر مرکوز ترقی کے لیے پارلیمانوں کو مضبوط بنانا‘ کے موضوع پر منعقدہ اس دو روزہ کانفرنس میں لچک، اختراع، تعاون اور پائیدار ترقی کے معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔ مسٹر برلا نے کہا کہ پارلیمانوں کو اختراع، شفافیت، جواب دہی اور عوامی شراکت داری کے ذریعے زیادہ مؤثر بنایا جانا چاہیے، تاکہ وہ لوگوں کی ضروریات اور امنگوں کو بہتر طریقے سے پورا کر سکیں۔ انہوں نے نوجوانوں کی امنگوں کو ترجیح دینے، ان کی صلاحیتوں کو ملک کی تعمیر سے جوڑنے اور ترقی و ماحولیات کے درمیان توازن برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ برکس ممالک کے درمیان پارلیمانی تعاون سے امن، خوش حالی اور پائیدار ترقی کو فروغ ملے گا۔
برکس پارلیمانی فورم کی یہ کانفرنس 26 اور 27 اکتوبر کو یہاں منعقد کی جا رہی ہے۔ اس میں برکس کے 11 رکن ممالک اور 10 شراکت دار ممالک کے پارلیمانی وفود شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس میں مختلف اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے، انسان مرکوز اختراع کو فروغ دینے اور زیادہ نمائندہ عالمی نظامِ حکمرانی کو یقینی بنانے میں پارلیمانوں کے کردار پر تبادلۂ خیال ہو رہا ہے۔ اخلاقی مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، عالمی نظامِ حکمرانی میں اصلاحات اور پائیدار ترقی جیسے موضوعات پر بھی ماہرین کے ساتھ غور و خوض کیا جا رہا ہے۔
کانفرنس کے دوران برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کی پارلیمانوں کی بین الاقوامی امور کی کمیٹیوں کے سربراہان کا خصوصی اجلاس بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، مختلف اجلاسوں میں ماہرین اپنے خیالات پیش کریں گے اور رکن ممالک کے نمائندوں کے درمیان دو طرفہ بات چیت بھی ہوگی۔
