Masarrat
Masarrat Urdu

سردیوں میں جنگلی حیات کا تحفظ: اسپین کا منفرد طریقہ

Thumb

قدرت کا نظام بظاہر سادہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے اندر زندگی کے بے شمار رشتے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک چھوٹا سا بیج، ایک کیڑا، ایک پرندہ، ایک خرگوش، ایک لومڑی اور ایک کسان بھی اس وسیع ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں۔ جب انسان اپنی ضرورت کے لیے زمین سے فصل حاصل کرتا ہے تو اس کا اثر صرف اس کی اپنی زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ کھیت سے وابستہ بے شمار جاندار بھی اس تبدیلی سے متاثر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر فصل کی کٹائی کے بعد کھیتوں کی صورت حال اچانک بدل جاتی ہے۔ جہاں کچھ دن پہلے تک لہلہاتی فصل موجود ہوتی ہے، وہاں کٹائی کے بعد کھلی زمین دکھائی دیتی ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر ان پرندوں اور چھوٹے جانوروں پر پڑتا ہے جو اپنی خوراک اور پناہ کے لیے کھیتوں پر انحصار کرتے ہیں۔

سردیوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہوجاتا ہے۔ درجہ حرارت میں کمی، تیز ہواؤں، بارش، برف باری اور خوراک کی قلت کے باعث جنگلی حیات کے لیے زندہ رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے میں اگر کھیت مکمل طور پر صاف کردیئے جائیں تو پرندوں اور چھوٹے جانوروں کے لیے خوراک کے قدرتی ذرائع اور چھپنے کی جگہیں بھی کم ہوجاتی ہیں۔ اسی پس منظر میں اسپین کے بعض کسانوں کا ایک سادہ طریقہ خاص توجہ کا مستحق ہے۔ وہ فصل کی کٹائی کے دوران کھیت کے کچھ حصے یا کناروں پر موجود فصل کو نہیں کاٹتے بلکہ اسے وہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی فیصلہ ہے، لیکن اس کے ماحولیاتی اثرات خاصے اہم ہوسکتے ہیں۔

کھیت میں چھوڑی گئی فصل سردیوں کے دوران پرندوں کے لیے قدرتی خوراک کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ فصل کے پودوں پر موجود بیج، زمین پر گرے ہوئے دانے اور ان کے درمیان موجود کیڑے مکوڑے کئی پرندوں کے لیے اہم غذا فراہم کرتے ہیں۔ سردی کے موسم میں جب قدرتی خوراک کے دوسرے ذرائع محدود ہوجاتے ہیں، ایسے چھوٹے ذخیرے بھی پرندوں کے لیے بہت اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔ پرندے ان کھیتوں میں خوراک تلاش کرتے ہیں اور اپنی توانائی برقرار رکھتے ہیں۔ اس طرح کسان کی جانب سے فصل کا ایک معمولی حصہ چھوڑ دینا کسی مصنوعی خوراک یا اضافی انتظام کے بغیر جنگلی حیات کے لیے قدرتی غذائی نظام کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

یہی چھوڑی ہوئی فصل چھوٹے جانوروں کے لیے پناہ گاہ کا بھی کام کرتی ہے۔ کھیت مکمل طور پر صاف ہوجانے کی صورت میں جانوروں کے پاس چھپنے کے لیے کم جگہ رہ جاتی ہے۔ کھلے میدان میں وہ تیز ہواؤں اور شدید سردی کا براہ راست سامنا کرتے ہیں اور شکاری جانوروں کے لیے بھی آسان ہدف بن سکتے ہیں۔ اس کے برعکس کھڑی فصل، خشک پودے اور گھاس نما پٹیاں انہیں چھپنے، آرام کرنے اور شدید موسم سے کسی حد تک بچنے کی جگہ فراہم کرتی ہیں۔ یوں ایک ہی اقدام خوراک اور پناہ، دونوں ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

اس طریقے کی سب سے اہم خصوصیت اس کی سادگی ہے۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے عموماً بڑے محفوظ علاقے، خصوصی منصوبے، بھاری سرمایہ کاری اور پیچیدہ انتظامی نظام کی بات کی جاتی ہے۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ہر جگہ ایسے بڑے منصوبے ممکن نہیں ہوتے۔ کھیتی باڑی کے علاقوں میں ایک نسبتاً آسان راستہ یہ ہے کہ کسان اپنی زمین کے ہر حصے کو مکمل طور پر صاف کرنے کے بجائے کچھ حصے قدرتی حالت میں رہنے دیں۔ اس کے لیے نہ کوئی نیا جنگل لگانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی اضافی جگہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ موجودہ زرعی زمین ہی کے ایک چھوٹے حصے کو جنگلی حیات کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

یہ تصور دراصل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زراعت اور جنگلی حیات ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔ مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے دونوں کے درمیان ایک متوازن تعلق قائم کیا جاسکتا ہے۔ زرعی زمین انسان کو خوراک فراہم کرتی ہے، لیکن یہی زمین بہت سے پرندوں، حشرات اور چھوٹے جانوروں کے لیے بھی مسکن اور خوراک کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگر کھیتوں کو مکمل طور پر یکساں اور صاف رکھنے کے بجائے ان میں کچھ قدرتی پٹیاں، جھاڑیاں، گھاس یا بچی ہوئی فصل برقرار رکھی جائے تو حیاتیاتی تنوع کو سہارا مل سکتا ہے۔

حیاتیاتی تنوع کسی بھی ماحولیاتی نظام کی مضبوطی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مختلف انواع ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔ کیڑے مکوڑے بہت سے پرندوں کی خوراک ہیں، پرندے بعض کیڑے مکوڑوں کی تعداد کو قابو میں رکھتے ہیں اور چھوٹے جانور بھی غذائی زنجیر کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں ایک خاص نوع کے لیے خوراک یا پناہ گاہ ختم ہوجائے تو اس کے اثرات دوسرے جانداروں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس لیے کھیتوں میں چھوڑی ہوئی فصل جیسی چھوٹی کوشش بھی مقامی حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے میں معاون ہوسکتی ہے۔

اس طریقے کا ایک اور پہلو مٹی اور زرعی ماحول سے متعلق ہے۔ فصل کے باقی ماندہ پودے اور نامیاتی مواد زمین پر موجود رہنے سے مٹی میں نامیاتی مادے کے اضافے میں مدد کرسکتے ہیں۔ مختلف نباتات اور حشرات کی موجودگی زرعی ماحول کو زیادہ متنوع بناتی ہے۔ اگر کسان مناسب طریقے سے فصل کی باقیات کا انتظام کریں تو یہ قدرتی وسائل کے بہتر استعمال کا حصہ بن سکتا ہے۔ تاہم، ہر علاقے میں فصل کی باقیات رکھنے کا طریقہ مقامی آب و ہوا، فصل کی قسم، کیڑوں کے خطرات اور زرعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اختیار کیا جانا چاہیے۔

اسپین کا یہ تجربہ ہمیں ایک وسیع تر اصول بھی سمجھاتا ہے کہ تحفظِ فطرت ہمیشہ انسان اور قدرت کے درمیان مکمل علیحدگی کا تقاضا نہیں کرتا۔ بعض اوقات قدرتی حیات کو سہارا دینے کے لیے انسانی سرگرمیوں کے اندر ہی معمولی تبدیلی کافی ہوسکتی ہے۔ اگر کھیتی باڑی کے دوران کچھ کناروں، پٹیوں یا مخصوص حصوں کو جنگلی حیات کے لیے چھوڑ دیا جائے تو زرعی زمین ایک طرح سے چھوٹے قدرتی مسکن کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ ایسے مقامات پر پرندوں کو خوراک، کیڑے مکوڑوں کو رہائش اور چھوٹے جانوروں کو پناہ مل سکتی ہے۔

یہ خیال ہندوستان جیسے زرعی ملک کے لیے بھی قابل غور ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں بڑی تعداد میں پرندے اور چھوٹے جنگلی جانور زرعی علاقوں کے آس پاس پائے جاتے ہیں۔ فصلوں کے موسم، آب و ہوا اور مقامی ماحولیاتی حالات کے مطابق کھیتوں کے کناروں پر چھوٹی قدرتی پٹیاں برقرار رکھی جاسکتی ہیں۔ خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں قدرتی مسکن مسلسل کم ہورہے ہیں، زرعی زمینیں جنگلی حیات کے لیے اضافی پناہ گاہ کا کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اس کے لیے کسانوں کو صرف یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر کھیت کا ہر انچ پیداوار کے لیے استعمال کرنا ہی واحد مقصد نہیں ہے، زمین کا ایک چھوٹا حصہ ماحولیاتی توازن کے لیے بھی اہم ہوسکتا ہے۔

تاہم اس عمل کو اختیار کرتے وقت کسانوں کی معاشی ضروریات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ کسان کی زمین اس کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے، اس لیے تحفظِ فطرت کی کوئی بھی حکمت عملی ایسی ہونی چاہیے جو اس پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ ڈالے۔ یہی وجہ ہے کہ فصل کے ایک محدود حصے کو چھوڑنے کا طریقہ قابل توجہ ہے۔ اگر مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ اسے اپنایا جائے تو کسان کو کسی الگ زمین یا بڑے اضافی خرچ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جہاں ممکن ہو، حکومتیں اور زرعی ادارے ایسے طریقوں کے بارے میں کسانوں کو رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں اور مقامی حالات کے مطابق مناسب ماڈل تیار کرسکتے ہیں۔

یہ طریقہ ہمیں قدرت کے ساتھ ہمارے تعلق کے بارے میں ایک اہم سبق بھی دیتا ہے۔ انسان اکثر کسی مسئلے کا حل تلاش کرتے ہوئے نئی چیز بنانے، نئی جگہ مختص کرنے یا اضافی وسائل استعمال کرنے کے بارے میں سوچتا ہے۔ لیکن بعض اوقات بہترین حل کسی چیز کو بنانے کے بجائے اسے مکمل طور پر ختم نہ کرنے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ کھیت میں بچی ہوئی فصل اسی سوچ کی مثال ہے۔ کسان اگر چند پٹیاں چھوڑ دیتا ہے تو وہ دراصل قدرت کو دوبارہ اپنا کام کرنے کی تھوڑی سی جگہ فراہم کرتا ہے۔

آج جب دنیا میں موسمیاتی تبدیلی، قدرتی مسکوں میں کمی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ جیسے مسائل اہم ہوتے جارہے ہیں، ایسے آسان اور کم خرچ طریقوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ہر مسئلے کا حل کسی بڑے منصوبے میں تلاش کرنا ضروری نہیں۔ مقامی سطح پر چھوٹے فیصلے بھی مجموعی طور پر بڑے ماحولیاتی نتائج پیدا کرسکتے ہیں۔ اگر ہزاروں کھیتوں میں جنگلی حیات کے لیے چھوٹے حصے برقرار رکھے جائیں تو مختلف علاقوں میں پرندوں اور چھوٹے جانوروں کے لیے خوراک اور پناہ کے متعدد مقامات پیدا ہوسکتے ہیں۔

آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسپین کے کسانوں کا یہ سادہ طریقہ ہمیں تحفظِ فطرت کی ایک بنیادی حقیقت یاد دلاتا ہے کہ قدرت کو ہمیشہ ہماری طرف سے بہت کچھ درکار نہیں ہوتا، بعض اوقات صرف تھوڑی سی جگہ اور تھوڑا سا وقت کافی ہوتا ہے۔ فصل کی کٹائی کے بعد کھیت کے کچھ حصے چھوڑ دینا بظاہر معمولی عمل ہے، لیکن سردیوں میں یہی جگہ کسی پرندے کے لیے خوراک، کسی چھوٹے جانور کے لیے پناہ اور کیڑے مکوڑوں کے لیے مسکن بن سکتی ہے۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ انسان اور قدرت کے درمیان بہتر توازن بڑے دعووں سے نہیں بلکہ روزمرہ کے چھوٹے اور سمجھ دار فیصلوں سے بھی قائم کیا جاسکتا ہے۔ اگر کھیتوں میں پیداوار کے ساتھ زندگی کے دوسرے رنگوں کے لیے بھی کچھ جگہ باقی رکھی جائے تو زراعت صرف انسان کی غذائی ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ نہیں رہے گی بلکہ وہ قدرتی حیات کے تحفظ میں بھی ایک اہم کردار ادا کرسکے گی۔

٭٭٭

 

Ads