حالیہ عرصے میں تبت کے خود مختار علاقے (ٹی اے آر) کے منرل ریسورسز ماسٹر پلان ڈرافٹ (2026–2030) کے ایک چینی ماحولیاتی جائزے نے عالمی ماحولیاتی اور دفاعی ماہرین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق تبت میں مجموعی طور پر 694 کان کنی کے حقوق میں سے 156 ایسے ہیں جو گلیشیئرز کے محض 5 کلومیٹر کے دائرے میں واقع ہیں۔ یہ کانیں 1,810.94 مربع کلومیٹر کے وسیع گلیشیائی رقبے کو متاثر کر رہی ہیں، جس کے اثرات نیپال، بھوٹان اور بالخصوص ہندوستان جیسے نچلے دھارے کے ممالک پر براہ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔
تبت کی سطح مرتفع جغرافیائی لحاظ سے ایشیا کی واٹر ٹاور کا درجہ رکھتی ہے۔ یہاں سے نکلنے والے دریا نہ صرف آبپاشی اور پینے کے پانی کا ذریعہ ہیں بلکہ زراعت، طاقت کے پیداواری منصوبوں اور کروڑوں لوگوں کی روزی روٹی کا مرکز بھی ہیں۔
چین کے منرل ریسورسز ماسٹر پلان ڈرافٹ (2026–2030) کے ماحولیاتی جائزے نے اس بات کو بے نقاب کیا ہے کہ اقتصادی ترقی اور معدنی وسائل (مثلاً تانبا، لیتھیم، سونا اور زنک) کی دوڑ میں گلیشیئرز کے انتہائی قریب کان کنی کے پرمٹ جاری کیے گئے ہیں۔ 156 کانوں کا گلیشیئرز کے 5 کلومیٹر کے دائرے میں ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔کان کنی کے لیے استعمال ہونے والے بھاری دھماکے، سڑکوں کی تعمیر اور صنعتی فضلے سے پیدا ہونے والا ڈسٹ اور کاربن گلیشیئرز کی سطح پر جمع ہو جاتا ہے۔ یہ جمی ہوئی دھول گلیشیئر کے سورج کی شعاعوں کو منعکس کرنے کی صلاحیت کو کم کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے برف کے پگھلنے کی رفتار میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
چین کی سرکاری پالیسی اور بیانات میں اکثر نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں آنے والے حالیہ سیلابوں کا ملبہ صرف ''عالمی موسمیاتی تبدیلی'' پر ڈالا جاتا ہے۔ اگرچہ گلوبل وارمنگ ایک مسلمہ حقیقت ہے، لیکن سائنسی ماہرین اور ماحولیاتی دانوں کا متفقہ مؤقف ہے کہ ''موسمیاتی تبدیلی پوری کہانی نہیں ہے ''۔
تبت کے بالائی علاقوں میں چینی حکومت کے چار بڑے اقدامات حساس ماحولیاتی نظام کو تیزی سے تباہ کر رہے ہیں۔بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، سڑکوں، ریلوے لائنوں اور سرنگوں کی تعمیر کے لیے پہاڑوں کی کٹائی سے زمین کی ساخت کمزور ہو جاتی ہے اور ہندوستان کے ساتھ سرحدی تنازعات کے پیش نظر سرحدوں پر فوج کی بڑی تعداد میں تعیناتی اور چھاؤنیوں کا قیام ماحولیاتی توازن کو بگاڑ رہا ہے۔کم آبادی والے تبت کے خطے میں مصنوعی طور پر شہر آباد کرنے اور آبادی کی منتقلی سے قدرتی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور برہم پتر (یارلنگ تسنگپو) اور دیگر دریاؤں پر بڑے بڑے ہائیڈرو پاور ڈیموں کی تعمیر سے قدرتی بہاؤ متاثر ہو رہا ہے۔مذکورہ تمام عوامل مل کر زمین کی ساخت کو غیر مستحکم بناتے ہیں اور معمولی سی بارش یا برف پگھلنے کی صورت میں شدید ترین قدرتی آفات کا سبب بنتے ہیں۔گلیشیئرز کے انتہائی قریب کان کنی کی کارروائیوں کا سب سے خطرناک نتیجہ یعنی ''برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب'' (جی ایل او ایف) کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
جب گلیشیئرز تیزی سے پگھلتے ہیں تو برف کے پگھلے ہوئے پانی سے گلیشیئر کی نچلی سطح پر عارضی جھیلیں بن جاتی ہیں۔ ان جھیلوں کے گرد قدرتی بند (Moraines) مٹی اور چٹانوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کان کنی کے لیے دھماکے، بھاری مشینری کے جھٹکوں اور زمینی کٹاؤ کے باعث یہ قدرتی بند اچانک ٹوٹ جاتے ہیں، جس سے لاکھوں کیوبک میٹر پانی، مٹی اور پتھر لمحوں میں وادیوں کی طرف بہہ نکلتے ہیں۔ہمالیائی وادیاں: نیپال، بھوٹان اور شمالی ہندوستان (خاص طور پر اروناچل پردیش، آسام، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ) ان تباہ کن سیلابوں کے براہ راست ہدف پر ہیں۔ ایسے اچانک سیلاب نچلے علاقوں میں موجود پلوں، سڑکوں، پن بجلی کے منصوبوں اور بستیوں کو سیکنڈوں میں بہا کر لے جاتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں پیشگی اطلاع کا نظام محدود ہونے کے باعث ان آفات میں ہلاکتوں کا اندیشہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔کان کنی کا عمل صرف زمین اور برف کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ مقامی اور ٹرانس باؤنڈری ہائیڈرولوجی (آبی نظام) کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
جب کانوں سے نکلنے والے معدنیات کے باقیات اور صخراتی ٹکڑے ہوا اور پانی کے رابطے میں آتے ہیں تو ان سے سلفیورک ایسڈ اور زہریلی دھاتیں (مثلاً سنکھیا ، پارہ اور لیڈ ) خارج ہوتی ہیں۔ یہ زہریلے کیمیکلز پگھلنے والے گلیشیائی پانی میں مل کر سرحد پار بہنے والے دریاؤں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ہمالیہ سے نکلنے والے دریاؤں پر ہندوستان اور نیپال کے کروڑوں انسان پینے کے پانی اور زراعت کے لیے منحصر ہیں۔ زہریلی دھاتوں پر مشتمل پانی جب نچلے علاقوں میں پہنچتا ہے تومٹی کی زرخیزی کو ختم کر دیتا ہے۔آبی حیات (مچھلیوں اور دیگر جانداروں) کو تباہ کر دیتا ہے۔مقامی آبادیوں میں کینسر، گردوں کی بیماریوں اور جِلدی امراض کا باعث بنتا ہے۔
چینی کان کنی کی یہ پالیسی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ جنوبی ایشیا کے لیے ایک سنگین ہائیڈرو پولیٹیکل چیلنج بن چکی ہے۔ ہندوستان کی شمالی اور شمال مشرقی ریاستیں (مثلاً اروناچل پردیش اور آسام) چین کے ساتھ برہم پترا (Yarlung Tsangpo) اور ستلج جیسے دریاؤں کا اشتراک کرتی ہیں۔چین کی جانب سے ٹرانس باؤنڈری دریاؤں کے ماحولیاتی اور آبی ڈیٹا (Hydrological Data) کی عدم فراہمی کے باعث ہندوستان کے لیے سیلاب کی پیشگی اطلاع حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔چین اگر بالائی علاقے میں قدرتی توازن بگاڑتا ہے تو اس کے نتیجے میں آنے والے ماحولیاتی اثرات کا سراسر معاشی اور جانی نقصان ہندوستان کو اٹھانا پڑتا ہے اور بھوٹان جیسے محصور (Landlocked) اور پہاڑی ممالک کے پاس اتنی معاشی طاقت یا انفراسٹرکچر نہیں ہے کہ وہ چین کے پیدا کردہ ماحولیاتی خطرات کا مقابلہ کر سکیں۔ تبت میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے ان ممالک کے پن بجلی کے بڑے منصوبے خطرناک حد تک غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔اگرچہ چین ان سرگرمیوں کو ''معاشی ترقی'' کا نام دیتا ہے، لیکن دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بالائی علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو ایک غیر روایتی سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے نچلے دھارے کے ممالک پر سیاسی اور معاشی دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔تبت میں چینی اقدامات ایک اہم سوال پیدا کرتے ہیں، کیا بین الاقوامی قوانین کے تحت بالائی دھارے (Upstream State) کے ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نچلے دھارے کے ممالک کو خطرے میں ڈالے؟بین الاقوامی قانون کے تحت ''عدم ضرر کے اصول'' کے مطابق کسی بھی ملک کو اپنی سرزمین کے اندر ایسے اقدامات کرنے کی اجازت نہیں ہے جس سے پڑوسی ممالک کو شدید نقصان پہنچے۔ تاہم، چین نے 1997 کے UN Watercourses Convention پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔چین کا ہندوستان یا دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ کوئی باضابطہ ''کثیرجہتی واٹر شیئرنگ معاہدہ'' (Multilateral Water Treaty) موجود نہیں ہے۔اس قانونی خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین تبت کے قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے اور اس کے ماحولیاتی نتائج سے خود کو بری الذمہ قرار دیتا ہے۔
ہمالیائی خطے کو ایک بڑی ماحولیاتی تباہی سے بچانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہندوستان، نیپال اور بھوٹان کو مل کر چینی کان کنی اور ماحولیاتی تباہی کے مسئلے کو اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) اور Conference of the Parties (سی او پی) جیسے عالمی فورمز پر اٹھانا چاہیے۔چین پر زور دیا جانا چاہیے کہ وہ گلیشیئرز کی صورتحال، کان کنی کے پھیلاؤ، اور ندی نالوں کے بہاؤ کا ریئل ٹائم (Real-time) ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا نچلے دھارے کے ممالک کے ساتھ شیئر کرے۔جنوبی ایشیائی ممالک کو ایک ''ہمالیائی گلیشیئر پروٹیکشن کونسل'' قائم کرنی چاہیے جو مشترکہ طور پر تیسرے قطب کی نگرانی کرے اور سائنسی شواہد پر مبنی رپورٹس دنیا کے سامنے لائے۔چین کے ماسٹر پلان (2026–2030) کے تحت ہونے والی کان کنی کی کارروائیوں کا کسی غیر جانبدار بین الاقوامی ادارے سے ماحولیاتی اور ہائیڈرولوجیکل جائزہ کروایا جائے تاکہ خطرات کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔
تبت کے گلیشیئرز کے محض 5 کلومیٹر کے دائرے میں 156 کانوں کا قیام صرف ایک صنعتی منصوبہ نہیں بلکہ پورے ہمالیائی خطے کے ماحولیاتی توازن کے لیے ایک ٹائم بم کی مانند ہے۔ یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ ہمالیہ میں آنے والی تباہی کا ذمہ دار صرف ''موسمیاتی تبدیلی'' کو قرار دے کر چین اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہو سکتا۔ چین کی جانب سے تبت میں فوج کے لیے بنیادی ڈھانچے کی اندھادھند تعمیر اور گلیشیئرز کے قریب کان کنی نہ صرف تبت کی بائیو ڈائیورسٹی کو نشت و نابود کر رہی ہے بلکہ ہندوستان، نیپال اور بھوٹان کے اربوں انسانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ اگر عالمی برادری اور ایشیائی ممالک نے اس مسئلے پر بروقت اور مشترکہ تزویراتی (Strategic) و ماحولیاتی حکمت عملی نہ اپنائی تو آنے والے برسوں میں ہمالیہ کا یہ توازن ناقابلِ تلافی تباہی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔(
٭٭٭

