Masarrat
Masarrat Urdu

معلومات اور علمِ حقیقی کا فرق: وہ علم کیا جو خود کو نہ سنبھال سکے

  • 11 Aug 2026
  • حافظ نثار ندوی (شاہین باغ)
  • مضامین
Thumb


کسی بھی معاشرے، شہر یا ادارے کی خوش بختی کا اندازہ وہاں موجود علمی شخصیات سے لگایا جاتا ہے۔ عوام ان صاحبِ علم لوگوں کو اپنے لیے مشعلِ راہ اور رہبر مانتے ہیں۔ لیکن آج کا ایک بہت بڑا اور تلخ المیہ یہ ہے کہ اکثر ایک ہی خطے یا ادارے کے دو علمی افراد آپسی رنجش، حسد اور دوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جہاں دو عام انسانوں کا اختلاف سمجھ میں آتا ہے، وہاں صاحبِ علم کی یہ معاصرانہ چشمک پوری نسل کو مایوس کر دیتی ہے۔ ایسے میں دل سے ایک ہی صدا بلند ہوتی ہے کہ: "وہ علم ہی کیا جو خود کو نہ سنبھال سکے؟"
آج کے مادی دور میں ہم نے محض کتابی معلومات (Information) کو علم سمجھ لیا ہے، حالانکہ علم کوئی ذہنی بوجھ یا ڈگری کا نام نہیں ہے۔ علم تو وہ نور ہے جو انسان کے اندر عاجزی، حلم اور وسعتِ ظرف پیدا کرے۔ عربی کا مشہور مقولہ ہے کہ ہم عصر لوگوں کے درمیان ایک پردہ آ جاتا ہے، لیکن اصل عالم وہ ہے جو اس پردے کو چاک کر کے دوسرے کی علمی برتری کو تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھے۔ اگر علم حاصل کرنے کے بعد بھی انسان کی "انا" (Ego) اس کے نفس پر قابو پا لے، تو وہ علمِ نافع نہیں بلکہ محض ایک حجاب بن جاتا ہے۔اس آپسی رنجش کی آگ کو بھڑکانے میں ان علمی شخصیات کے اردگرد موجود متعلقین، شاگردوں اور مریدین کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے، جن کا زہر پورے ماحول کو مسموم کر دیتا ہے۔ یہ حاشیہ بردار اپنی سرخروئی اور ذاتی مفادات کے لیے باتوں کو ادھر سے ادھر منتقل کرتے ہیں اور اپنے ممدوح کو بڑا دکھانے کے لیے دوسرے کی خامیوں کو اچھالتے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ بڑے بڑے صاحبِ علم لوگ بھی ان خوشامدیوں کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس کر اپنی علمی باوقاری کھو دیتے ہیں۔بقول بابا بلھے شاہ:
پڑھ پڑھ علم ہزار کتاباں، کدے اپنے آپ نوں پڑھیا ای نہیںجا جا وڑدے مندر مسجدی، کدے اپنے اندر وڑیا ای نہیںاگر
ہمارا علم ہمیں اپنے اندرونی انتشار اور نفسانی رنجشوں کو سنبھالنا نہیں سکھاتا، تو وہ بالکل بے معنی ہے۔ اگر معاشرے کے علمی رہبر ہی آپس میں الجھتے رہیں گے، تو وہ عوام کو کیا اخلاقی درس دیں گے؟
وقت کا تقاضا ہے کہ ہمارے تعلیمی اور مذہبی اداروں میں علم کے ساتھ ساتھ "تزکیہ نفس" اور اخلاقی تربیت کو لازمی کیا جائے، تاکہ علم پانے والا معاشرے کو جوڑنے والا بنے، توڑنے والا نہیں۔

Ads