اکیسویں صدی میں انسانیت کو جن بڑے عالمی چیلنجوں کا سامنا ہے، ان میں موسمیاتی تبدیلی سب سے نمایاں ہے۔ زمین کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت نہ صرف موسموں کے نظام کو متاثر کر رہا ہے بلکہ قدرتی وسائل، حیاتیاتی تنوع، آبی ذخائر اور انسانی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ انہی اثرات میں گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا ایک نہایت سنگین مسئلہ بن کر ابھرا ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ اگر گلیشیئر اسی رفتار سے پگھلتے رہے تو دنیا کے برف پوش علاقوں میں پچاس ہزار سے زیادہ نئی جھیلیں وجود میں آ سکتی ہیں، جن سے ایشیا، اینڈیز، الاسکا اور آرکٹک سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں تباہ کن سیلابوں اور ماحولیاتی خطرات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق نے اس مسئلے کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ سویڈن، امریکہ، سوئٹزرلینڈ اور ناروے کے سائنس دانوں نے دنیا بھر کے گلیشیئرز کے نیچے موجود زمینی ساخت کا جائزہ لیا اور اندازہ لگایا کہ برف پگھلنے کے بعد تقریباً 56,659 نئی جھیلیں بن سکتی ہیں۔ یہ تحقیق اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ایک جاری حقیقت ہے، جس کے اثرات آنے والی نسلوں کے ساتھ ساتھ موجودہ انسانوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔
گلیشیئر برف کے ایسے عظیم ذخائر ہیں جو ہزاروں برس کے دوران مسلسل برف باری اور کم درجہ حرارت کے باعث تشکیل پاتے ہیں۔ دنیا میں تقریباً دو لاکھ سے دو لاکھ پچہتر ہزار گلیشیئر موجود ہیں، جن میں زمین کے تقریباً 69 فیصد میٹھے پانی کا ذخیرہ محفوظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گلیشیئرز کو دنیا کے قدرتی آبی ذخائر کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
یہ گلیشیئر آسٹریلیا کے علاوہ تقریباً ہر براعظم میں موجود ہیں۔ انٹارکٹیکا اور گرین لینڈ میں ان کی سب سے بڑی مقدار پائی جاتی ہے، جبکہ ہمالیہ، قراقرم، ہندوکش، اینڈیز، آرکٹک اور الاسکا کے برفانی علاقے بھی ان سے مالا مال ہیں۔
گلیشیئر صرف برف کے ڈھیر نہیں بلکہ یہ کروڑوں انسانوں کی زندگی کا سہارا ہیں۔ ان سے نکلنے والے دریا پینے کے پانی، زراعت، صنعت اور پن بجلی کے لیے بنیادی ذریعہ ہیں۔ اگر یہ برفانی ذخائر ختم ہونے لگیں تو دنیا کے کئی ممالک کو شدید آبی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی بنیادی وجہ زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔ کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس کا استعمال، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، صنعتی آلودگی اور گاڑیوں سے خارج ہونے والی گیسیں زمین کو مسلسل گرم کر رہی ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سو برس میں عالمی اوسط درجہ حرارت تقریباً 1.2 ڈگری سیلسیس بڑھ چکا ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو اس صدی کے اختتام تک درجہ حرارت میں مزید نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس کے نتیجے میں برفانی ذخائر کے پگھلنے کی رفتار مزید تیز ہو سکتی ہے۔
نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے جدید سیٹلائٹ تصاویر، ڈیجیٹل بلندی کے نقشوں اور کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے دنیا کے تمام گلیشیئرز کے نیچے موجود زمینی ساخت کا تجزیہ کیا۔
تحقیق کے مطابق برف پگھلنے کے بعد 56,659 نئی جھیلیں وجود میں آ سکتی ہیں،ان میں سے زیادہ تر جھیلیں ہمالیہ، اینڈیز، الاسکا، آرکٹک اور دیگر برفانی علاقوں میں بنیں گی۔کئی جھیلیں قدرتی مٹی یا برف کے بندوں سے گھری ہوں گی، جو کمزور اور غیر مستحکم ہوں گے۔ان بندوں کے ٹوٹنے کی صورت میں اچانک اور انتہائی تباہ کن سیلاب آسکتے ہیں۔
یہ تحقیق اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ آئندہ دہائیوں میں دنیا کے کئی برفانی علاقوں کا جغرافیہ مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔
جب کوئی گلیشیئر پگھلتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگتا ہے۔ اس کے نیچے موجود نشیبی علاقے، گڈھے اور پتھریلے حصے پانی سے بھر جاتے ہیں اور نئی جھیلیں بن جاتی ہیں۔ابتدا میں یہ جھیلیں چھوٹی ہوتی ہیں، لیکن مسلسل برف پگھلنے سے ان کا حجم بڑھتا رہتا ہے۔ اگر ان جھیلوں کو روکنے والا قدرتی بند کمزور ہو تو کسی بھی وقت وہ ٹوٹ سکتا ہے اور لاکھوں مکعب میٹر پانی چند لمحوں میں نیچے کی آبادیوں کی طرف بہہ سکتا ہے۔
گلیشیائی جھیلوں کا سب سے بڑا خطرہ گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے سے آنے والا سیلاب ہے۔
اس قسم کے سیلاب میں پل بہہ سکتے ہیں،سڑکیں تباہ ہو سکتی ہیں،پن بجلی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں،دیہات اور شہر زیر آب آ سکتے ہیں اورانسانی جانوں کا بھاری نقصان ہو سکتا ہے۔یہ سیلاب عام سیلابوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ ان کی رفتار بہت زیادہ ہوتی ہے اور لوگوں کو محفوظ مقام تک پہنچنے کا مناسب وقت نہیں ملتا۔
ایشیا دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں کروڑوں افراد کا انحصار ہمالیائی گلیشیئرز پر ہے۔ دریائے سندھ، گنگا، برہم پتر، یانگ زی اور میکونگ جیسے عظیم دریا انہی گلیشیئرز سے نکلتے ہیں۔اگر ہمالیہ میں بڑی تعداد میں نئی جھیلیں وجود میں آئیں توپاکستان،ہندوستان،نیپال،بھوٹان اور چین جیسے سبھی ممالک کو سیلاب، آبی بحران اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جنوبی امریکہ کے اینڈیز پہاڑی سلسلے میں بھی گلیشیئر تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ یہاں لاکھوں افراد اپنی پانی کی ضروریات کے لیے انہی برفانی ذخائر پر انحصار کرتے ہیں۔اسی طرح الاسکا اور آرکٹک میں بھی برف غیر معمولی رفتار سے پگھل رہی ہے۔ آرکٹک میں برف کی کمی عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافے کا سبب بنتی ہے کیونکہ سفید برف سورج کی روشنی کو واپس منعکس کرتی ہے، جبکہ اس کے ختم ہونے سے زمین زیادہ حرارت جذب کرتی ہے۔گلیشیئرز کے پگھلنے کا ایک اہم نتیجہ سمندروں کی سطح میں اضافہ بھی ہے۔ اگر بڑے برفانی ذخائر مسلسل پگھلتے رہے تو ساحلی علاقوں کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔جس کے نتیجے میں ساحلی شہر زیر آب آ سکتے ہیں،زرعی زمینوں میں کھارا پانی داخل ہو سکتا ہے، لاکھوں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑ سکتی ہے اورساحلی ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر بنگلہ دیش، مالدیپ اور بحرالکاہل کے چھوٹے جزیروں کے لیے انتہائی تشویش ناک ہے۔
گلیشیئرز صرف انسانوں کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ بے شمار جانوروں اور پودوں کی بقا بھی ان سے وابستہ ہے۔برف پگھلنے سے قطبی ریچھوں کا مسکن ختم ہو رہا ہے،برفانی لومڑی، برفانی خرگوش اور دیگر جانور متاثر ہو رہے ہیں، دریا کے پانی کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، جس سے آبی حیات کو نقصان پہنچ رہا ہے، نایاب نباتات ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
گلیشیئرز کے خاتمے سے صرف ماحول ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہوگی۔ ممکنہ اثرات میں زرعی پیداوار میں کمی،پن بجلی کی پیداوار متاثر ہونا،سیاحت میں کمی،انفراسٹرکچر کی تباہی اورآفات سے نمٹنے پر بھاری اخراجات وغیرہ۔
ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ نقصانات کہیں زیادہ سنگین ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس وسائل محدود ہوتے ہیں۔سائنس دان اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔اس مقصد کے لیے سیٹلائٹ تصاویر،مصنوعی ذہانت،ڈرون،جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) اورریموٹ سینسنگ جیسے جدید ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ خطرناک جھیلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے اور ممکنہ سیلاب سے پہلے لوگوں کو خبردار کیا جا سکے۔گلیشیئرز کے تحفظ کے لیے صرف سائنسی تحقیق کافی نہیں بلکہ مؤثر سرکاری اقدامات بھی ضروری ہیں۔
اس سلسلے میں درج ذیل اقدامات اہم ہیں جن میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی،قابلِ تجدید توانائی کا فروغ،جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری،خطرناک گلیشیائی جھیلوں کی نگرانی، ابتدائی وارننگ سسٹم کی تنصیب، پہاڑی علاقوں میں غیر منصوبہ بند تعمیرات کی روک تھام اورعوام میں موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں شعور بیدار کرنا۔عالمی سطح پر پیرس موسمیاتی معاہدے جیسے اقدامات اسی مقصد کے لیے کیے گئے ہیں، تاہم ان پر مؤثر عمل درآمد پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔
گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا صرف ایک قدرتی عمل نہیں بلکہ انسان کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والا ایک عالمی بحران ہے۔ حالیہ تحقیق میں 56 ہزار سے زیادہ نئی جھیلوں کے وجود میں آنے کی پیش گوئی اس بات کی واضح علامت ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی پر قابو نہ پایا گیا تو دنیا کو بڑے پیمانے پر سیلاب، آبی بحران، حیاتیاتی تنوع کی تباہی، معاشی نقصانات اور انسانی نقل مکانی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس لیے ضروری ہے کہ حکومتیں، سائنس دان، بین الاقوامی ادارے اور عام شہری سب مل کر ماحول کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔ کاربن کے اخراج میں کمی، صاف توانائی کا استعمال، قدرتی وسائل کا دانشمندانہ استعمال اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بروقت منصوبہ بندی ہی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، متوازن اور پائیدار زمین فراہم کر سکتی ہے۔ گلیشیئرز کا تحفظ درحقیقت انسانی بقا، آبی سلامتی اور کرہ ارض کے مستقبل کا تحفظ ہے۔
٭٭٭

