Masarrat
Masarrat Urdu

جنوبی ہندوستان تیزی سے خشک، مشرقی ساحل پر خشک سالی کا بڑھتا بحران: تحقیق

Thumb

ہندوستان کا موسمیاتی منظرنامہ گزشتہ پانچ دہائیوں میں نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔ موسم کی تبدیلی اب محض اوسط درجہ حرارت میں اضافے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات گرمی کی شدت، ہیٹ ویوز، خشک سالی اور مختلف علاقوں میں موسمیاتی انتہاؤں کی صورت میں زیادہ واضح ہو رہے ہیں۔ حالیہ تحقیق نے اس تبدیلی کی ایک اہم تصویر پیش کی ہے۔ اس کے مطابق ہندوستان کے مختلف خطوں میں موسمیاتی تبدیلی یکساں انداز میں رونما نہیں ہو رہی، بلکہ ہر خطہ اپنی جغرافیائی، ماحولیاتی اور موسمی خصوصیات کے اعتبار سے الگ طرح کے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔

”نظرثانی شدہ سی ای آئی کا استعمال کرتے ہوئے برصغیر پاک و ہند میں موسمیاتی شدت کا ارتقاء“ کے عنوان سے شائع ہونے والی تحقیق میں 1971 سے 2022 تک کے موسمیاتی رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ تحقیق انڈیا میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (آئی ایم ڈی)، ایٹریا یونیورسٹی، بنگلورو اور نیشنل سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹنگ (این سی ایم آر ڈبلیو ایف) کے محققین نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ تحقیق کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ گزشتہ نصف صدی میں ہندوستان کے موسمیاتی نظام میں نہ صرف شدت آئی ہے بلکہ اس کی جغرافیائی تقسیم بھی تبدیل ہوئی ہے۔

اس تحقیق کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ ہندوستان کے جنوبی حصے نسبتاً تیزی سے خشک ہو رہے ہیں، جبکہ مشرقی ساحل مسلسل خشک سالی کے حوالے سے ایک اہم خطے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بارش میں کمی یا بارش کے معمول میں تبدیلی کے اثرات محض پانی کی دستیابی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ زراعت، خوراک کی پیداوار، دیہی معیشت اور زیر زمین پانی کے وسائل پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ہندوستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور کروڑوں افراد کی روزی روٹی براہ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ ملک کی زراعت کا ایک بڑا حصہ اب بھی بارش پر منحصر ہے۔ ایسے میں اگر کسی علاقے میں بارش کے دن کم ہو جائیں، بارش کا وقت تبدیل ہو جائے یا طویل خشک وقفے پیدا ہونے لگیں تو کسانوں کے لیے فصلوں کی منصوبہ بندی مشکل ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس بعض علاقوں میں مختصر وقت کے دوران انتہائی زیادہ بارش بھی معمول بن سکتی ہے، جس سے ایک طرف خشک سالی اور دوسری طرف سیلاب کا خطرہ بیک وقت پیدا ہو سکتا ہے۔

تحقیق کا دوسرا اہم پہلو شدید گرمی سے متعلق ہے۔ شمال مغربی ہندوستان شدید گرمی کا ایک اہم مرکز بن کر سامنے آیا ہے۔ اس خطے میں دن کے درجہ حرارت، مرطوب گرمی اور ہیٹ ویوز کی شدت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شمال مغربی ہندوستان میں راجستھان، ہریانہ، پنجاب، دہلی اور آس پاس کے علاقوں کا ایک بڑا حصہ شامل ہے، جہاں گرمی کی لہریں انسانی صحت، زراعت، پانی اور بجلی کی طلب کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔

گرمی کی شدت کو صرف تھرمامیٹر پر درج درجہ حرارت سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ جب زیادہ درجہ حرارت کے ساتھ ہوا میں نمی بھی بڑھ جائے تو انسانی جسم کے لیے پسینے کے ذریعے حرارت خارج کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً ایک ہی درجہ حرارت مختلف نمی کی سطحوں پر جسم پر مختلف اثر ڈال سکتا ہے۔ اسی لیے موجودہ دور میں موسمیاتی مطالعات میں مرطوب گرمی اور انسانی جسم پر اس کے اثرات کو بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

تحقیق کے مطابق 1971 سے 2022 کے درمیان وسطی اور شمال مغربی ہندوستان میں شدید درجہ حرارت سے متاثرہ زمینی رقبے میں ہر دہائی کے دوران تقریباً 20 سے 40 فیصد تک اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شدید گرمی اب چند مخصوص مقامات تک محدود نہیں رہی۔ 1980 کی دہائی میں جو علاقے شدید گرمی کے ”ہاٹ اسپاٹس“ کے طور پر نمایاں تھے، وہ وقت گزرنے کے ساتھ وسیع اور مسلسل گرم علاقوں میں تبدیل ہوتے گئے۔

یہ تبدیلی شہری علاقوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہندوستان کے بڑے شہروں میں پہلے ہی کنکریٹ، ٹریفک، صنعتی سرگرمیوں اور محدود سبز علاقوں کی وجہ سے شہری حرارتی جزیرے کا مسئلہ موجود ہے۔ جب وسیع علاقائی گرمی کی لہر شہری حرارتی اثر کے ساتھ ملتی ہے تو شہری آبادی کو زیادہ شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورت حال میں بجلی کی طلب بڑھتی ہے، کیونکہ لوگ کولنگ آلات کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں توانائی کے نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

گرمی کی بڑھتی ہوئی شدت کا تعلق صحت عامہ سے بھی ہے۔ شدید گرمی جسم میں پانی کی کمی، ہیٹ اسٹروک، تھکن اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ بزرگ افراد، بچے، کھلے مقامات پر کام کرنے والے مزدور اور ایسے افراد جو مناسب ٹھنڈک یا پانی تک رسائی نہیں رکھتے، زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ تعمیراتی مزدور، زرعی کارکن، سڑکوں پر کام کرنے والے افراد اور دیگر محنت کشوں کے لیے طویل ہیٹ ویوز روزگار کے معمولات کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔

خشک سالی کا مسئلہ اس سے مختلف مگر باہم جڑا ہوا خطرہ ہے۔ جنوبی ہندوستان میں بڑھتی خشکی اور مشرقی ساحلی علاقوں میں خشک سالی کے رجحانات زراعت کے لیے اہم تشویش کا باعث ہیں۔ اگر مٹی میں نمی کم ہو جائے اور زیر زمین پانی کے ذخائر بھی دباؤ میں ہوں تو کسانوں کا آبپاشی پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔ اس سے زرعی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور چھوٹے کسان زیادہ مالی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یہ صورتحال پانی کے انتظام کے لیے بھی نئے چیلنج پیدا کرتی ہے۔ ہندوستان کے کئی علاقوں میں آبادی، صنعت اور زراعت پہلے ہی محدود آبی وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر موسمی بارش کا نظام مزید غیر یقینی ہو جائے تو پانی ذخیرہ کرنے، زیر زمین پانی کی بحالی اور آبپاشی کے روایتی نظاموں پر نظر ثانی ضروری ہو جائے گی۔ بارش کے پانی کو زیادہ مؤثر طریقے سے محفوظ کرنا، تالابوں اور جھیلوں کو بحال کرنا اور مقامی آبی نظاموں کی حفاظت کرنا مستقبل کی حکمت عملی کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے اثرات ہمیشہ ایک ہی شکل میں ظاہر نہیں ہوتے۔ ایک علاقے میں شدید گرمی بڑھ سکتی ہے، دوسرے میں خشک سالی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور کسی تیسرے علاقے میں شدید بارش یا سیلاب کے واقعات زیادہ اہم ہو سکتے ہیں۔ اس لیے پورے ملک کے لیے ایک ہی نوعیت کی موسمیاتی حکمت عملی کافی نہیں ہوگی۔ علاقائی سطح پر خطرات کی شناخت اور اسی کے مطابق منصوبہ بندی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف اور وزارتِ ارضیاتی علوم کے سابق سیکریٹری ڈاکٹر ایم راجیون نے بھی اس تبدیلی کے وسیع اثرات کی جانب توجہ دلائی ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہندوستان کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، بلکہ شدید گرمی اور خشک سالی کے اثرات پہلے کے مقابلے میں وسیع علاقوں تک پھیل رہے ہیں۔ یہ بات موسمیاتی منصوبہ بندی کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

مستقبل میں ہندوستان کو موافقت اور تخفیف، دونوں محاذوں پر کام کرنا ہوگا۔ موافقت کے تحت ایسے اقدامات ضروری ہوں گے جو بدلتے موسم کے اثرات کو کم کریں۔ مثال کے طور پر گرمی سے نمٹنے کے لیے ہیٹ ایکشن پلان، شہری سبزہ، سایہ دار مقامات، بہتر تعمیراتی ڈیزائن اور کارکنوں کے لیے کام کے اوقات میں تبدیلی جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں کم پانی استعمال کرنے والی فصلیں، بہتر آبپاشی، بارش کے پانی کا ذخیرہ اور مٹی میں نمی برقرار رکھنے کی تکنیکیں مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

دوسری طرف طویل مدتی حل کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی بھی ضروری ہے۔ قابل تجدید توانائی کا فروغ، توانائی کی کارکردگی میں بہتری، صاف ٹرانسپورٹ، جنگلات اور قدرتی ماحولیاتی نظام کا تحفظ اور کم کاربن والی صنعتی ترقی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تاہم صرف حکومت کی کوششیں کافی نہیں ہوں گی۔ مقامی اداروں، سائنسی اداروں، کسان تنظیموں، صنعت اور عام شہریوں کو بھی موسمیاتی تبدیلی کے مطابق اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانا ہوگی۔ سب سے اہم ضرورت قابل اعتماد موسمیاتی معلومات کو مقامی سطح پر قابل عمل مشوروں میں تبدیل کرنے کی ہے۔ اگر کسان کو بروقت بارش، خشک سالی یا شدید گرمی کی پیش گوئی مل جائے تو وہ فصل، آبپاشی اور مزدوری کے حوالے سے بہتر فیصلے کر سکتا ہے۔

مجموعی طور پر نئی تحقیق ہندوستان کے لیے ایک اہم سائنسی اشارہ فراہم کرتی ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں میں موسمیاتی تبدیلی نے ملک کے مختلف حصوں کو مختلف انداز سے متاثر کیا ہے۔ شمال مغرب میں شدید گرمی کا پھیلاؤ، وسطی علاقوں میں بڑھتا حرارتی دباؤ اور جنوبی و مشرقی خطوں میں بڑھتی خشکی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہندوستان کا موسمیاتی مستقبل زیادہ پیچیدہ ہو رہا ہے۔

اس صورت حال کو محض درجہ حرارت میں اضافے کے طور پر دیکھنے کے بجائے پانی، زراعت، صحت، توانائی، شہری منصوبہ بندی اور معیشت سے جڑے ایک جامع مسئلے کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ صرف مستقبل کے خطرات سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ موجودہ معاشی اور سماجی نظام کو زیادہ مضبوط بنانے کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر سائنسی تحقیق، مقامی تجربات اور مؤثر حکمت عملی کو یکجا کیا جائے تو ہندوستان بدلتے ہوئے موسمی حالات کے اثرات کو کم کرنے اور ایک زیادہ لچک دار مستقبل کی بنیاد رکھنے کی سمت میں مؤثر پیش رفت کر سکتا ہے۔

٭٭٭

Ads