اس صورت حال میں گلیشیئر سے پگھلنے والے پانی کو دریائے سندھ میں ضائع ہونے سے پہلے زرعی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا اقدام نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ روزانہ تقریباً 9 کروڑ لیٹر گلیشیائی پانی کو آب پاشی کے نظام سے جوڑنے کی کوشش نہ صرف پانی کے تحفظ کی ایک قابل ذکر مثال ہے بلکہ یہ لداخ کی زرعی معیشت، دیہی روزگار اور غذائی خود کفالت کے لیے بھی ایک نئی امید پیدا کرتی ہے۔
لداخ کو عام طور پر سرد اور خشک صحرائی خطے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں سالانہ بارش انتہائی کم ہوتی ہے اور زرعی سرگرمیاں بڑی حد تک برف اور گلیشیئرز سے حاصل ہونے والے پانی پر منحصر ہیں۔ ایسے میں پانی کی ہر بوند انتہائی قیمتی ہے۔ اس کے باوجود گلیشیئرز سے پگھلنے والا قابل ذکر پانی طویل عرصے تک قدرتی بہاؤ کے ذریعے دریائے سندھ میں شامل ہوتا رہا، جبکہ قریبی زرعی زمینیں آب پاشی کے لیے مناسب پانی سے محروم رہیں۔
یہ صورت حال اس بات کی واضح مثال ہے کہ صرف پانی کی موجودگی آبی سلامتی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ پانی کو محفوظ کرنے، اس کا رخ درست جگہ پر موڑنے اور اسے مناسب وقت پر زرعی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کا انتظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ لداخ کا حالیہ تجربہ اسی بنیادی اصول کی طرف توجہ دلاتا ہے۔
اس سلسلے میں لیہہ کے قریب اسٹوگ گاؤں نالہ ایک اہم ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ نالہ اسٹوگ کانگری گلیشیئر سے پانی حاصل کرتا ہے اور اس کا بہاؤ بالآخر دریائے سندھ میں شامل ہوجاتا ہے۔ حکام کی جانب سے اس پانی کے بہاؤ کا جائزہ لینے کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ اس کے ایک بڑے حصے کو موجودہ ایگو-پھے آب پاشی نہر کی طرف موڑا جاسکتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر ونائی کمار سکسینہ کی ہدایت پر محکمہ آب پاشی و سیلاب کنٹرول نے 14 اگست کو اس سمت عملی کارروائی کی۔ جے سی بی مشین کی مدد سے دو خندقیں بناکر اسٹوگ نالہ کے اضافی پانی کا رخ ایگو-پھے نہر کی طرف موڑ دیا گیا۔ اس اقدام کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے لیے کسی بڑے سرمایہ جاتی منصوبے یا بھاری انفراسٹرکچر کی ضرورت نہیں پڑی۔ نسبتاً سادہ زمینی کام کے ذریعے پانی کے قدرتی بہاؤ کو زرعی ضرورت کے مطابق استعمال میں لایا گیا۔یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ بعض اوقات بڑے مسائل کے حل کے لیے بڑے اور مہنگے منصوبوں کے بجائے مقامی جغرافیہ، موجودہ بنیادی ڈھانچے اور قدرتی وسائل کی بہتر منصوبہ بندی کافی ثابت ہوسکتی ہے۔
اس منصوبے کی اصل اہمیت پانی کی مقدار سے ظاہر ہوتی ہے۔ اسٹوگ نالہ میں نیچے کی جانب بہنے والے پانی کا بہاؤ تقریباً 36.60 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ ایک کیوسک تقریباً 28.32 لیٹر فی سیکنڈ کے برابر ہوتا ہے۔ اس حساب سے 24 گھنٹوں میں پانی کی مقدار تقریباً 9 کروڑ لیٹر بنتی ہے۔اتنی بڑی مقدار میں پانی اگر مسلسل دریائے سندھ میں بہہ کر ضائع ہونے کے بجائے زرعی زمینوں تک پہنچے تو اس کے اثرات محض آب پاشی تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس سے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، کسانوں کی آمدنی میں بہتری، دیہی روزگار کے مواقع میں اضافہ اور مقامی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت مضبوط ہوسکتی ہے۔اس منصوبے کے تحت تقریباً 26 کیوسک اضافی پانی ایگو-پھے نہر میں منتقل کیا جارہا ہے۔ اس میں 19 کیوسک ایگو گاؤں اور 7 کیوسک پھے گاؤں کی جانب منتقل ہوگا، جبکہ باقی تقریباً 10 کیوسک پانی کو بھی مستقبل میں استعمال میں لانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ یوں ایک ایسا قدرتی وسیلہ جو طویل عرصے سے غیر مؤثر انداز میں بہہ رہا تھا، اب معاشی اور زرعی سرگرمیوں کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ایگو-پھے نہر بھی اس منصوبے کی ایک اہم کڑی ہے۔ تقریباً 43 کلومیٹر طویل اس نہر کی تعمیر 1979 میں شروع ہوئی اور 2005 میں مکمل ہوئی۔ اس کے تقریباً 200 میٹر حصے کو زیر زمین تعمیر کیا گیا تاکہ اسٹوگ نالہ کا پانی نہر کے اوپر سے گزر سکے اور نہر کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
یہ تعمیراتی منصوبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کئی دہائیاں قبل بھی مقامی حکام پانی کے قدرتی بہاؤ اور آب پاشی کے نظام کے درمیان تعلق سے واقف تھے۔ تاہم گلیشیائی پانی کی اضافی مقدار کو مؤثر طریقے سے نہر میں منتقل کرنے کا خیال عملی شکل اختیار نہ کرسکا۔ نتیجتاً نہر اپنی صلاحیت کے مطابق کام نہ کرسکی اور پانی کی کمی اس کے لیے مستقل مسئلہ بنی رہی۔آج اسی نہر کو گلیشیائی پانی کے نئے بہاؤ سے جوڑنا دراصل ایک پرانے بنیادی ڈھانچے کو نئے مقصد اور نئی زندگی دینے کے مترادف ہے۔ اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ ماضی میں تعمیر کیے گئے بنیادی ڈھانچے کو جدید ضروریات کے مطابق دوبارہ استعمال کرنا بعض اوقات نئے منصوبوں کی تعمیر سے زیادہ مؤثر اور کم خرچ ہوسکتا ہے۔
لداخ میں قابل کاشت زمین محدود ہے، لیکن اگر دستیاب زمین کو مناسب پانی فراہم کیا جائے تو زرعی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر وسعت دی جاسکتی ہے۔ اس منصوبے سے تقریباً 12 گاؤں مستفید ہوں گے اور ایک ہزار ایکڑ سے زائد اراضی کو آب پاشی کی سہولت ملنے کی توقع ہے۔
اس کا سب سے بڑا فائدہ مقامی کسانوں کو ہوگا۔ پانی کی دستیابی بڑھنے سے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوسکتا ہے، زرعی زمین کے استعمال کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے اور دیہی آبادی کے لیے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا ہوسکتے ہیں۔ لداخ جیسے خطے میں جہاں روزگار کے مواقع محدود اور نقل مکانی ایک چیلنج ہے، زرعی معیشت کو مضبوط کرنا سماجی استحکام کے لیے بھی اہم ہوسکتا ہے۔مزید برآں، مقامی سطح پر زرعی پیداوار میں اضافہ علاقے کی غذائی خود کفالت کو مضبوط کرسکتا ہے۔ اگر زیادہ سبزیاں، اناج اور دیگر مقامی فصلیں پیدا ہوں تو دور دراز علاقوں سے خوراک کی ترسیل پر انحصار بھی کسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
اس منصوبے کا ایک قابل ذکر پہلو اس کی کم لاگت ہے۔ عام طور پر بڑے آب پاشی منصوبوں کے لیے ڈیم، طویل پائپ لائنیں، پمپنگ اسٹیشن اور بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام درکار ہوتے ہیں۔ لداخ کے موجودہ اقدام میں قدرتی بہاؤ اور موجودہ نہری نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نسبتاً معمولی زمینی کام کے ذریعے پانی کا رخ تبدیل کیا گیا۔یہ ماڈل ہندوستان کے دیگر پہاڑی اور خشک علاقوں کے لیے بھی سبق آموز ہوسکتا ہے۔ ہر خطے کے جغرافیائی حالات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے ایک ہی ماڈل ہر جگہ لاگو نہیں کیا جاسکتا، لیکن قدرتی پانی کے بہاؤ کا سائنسی مطالعہ، موجودہ نہری نظام کا بہتر استعمال اور مقامی سطح پر کم لاگت کے حل تلاش کرنا ملک کے کئی علاقوں میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔تاہم،گلیشیائی پانی کے استعمال کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا کے کئی پہاڑی علاقوں میں گلیشیئر تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں برف اور گلیشیئر کے پگھلنے میں اضافہ پانی کی دستیابی بڑھا سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں گلیشیئرز کے سکڑنے سے پانی کے مستقل ذرائع متاثر ہوسکتے ہیں۔اس لیے لداخ میں موجودہ پانی کو استعمال میں لانے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی آبی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کے مقامی نظام، مصنوعی تالاب، چھوٹے آبی ذخائر، بارش اور برف کے پانی کا تحفظ اور پانی کے مؤثر استعمال کی تکنیکیں مستقبل کی آبی سلامتی کے لیے ضروری ہوں گی۔
اس ایک منصوبے کی کامیابی کو وسیع تر آبی حکمت عملی کا نقط آغاز بنایا جاسکتا ہے۔ لداخ کے دیگر علاقوں میں بھی ایسے مقامات کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جہاں گلیشیائی یا برف پگھلنے کا پانی زرعی زمینوں کے قریب سے گزرتا ہے۔ اگر مقامی جغرافیہ اور ماحولیاتی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے پانی کو آب پاشی، پینے کے پانی اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے تو خطے کی مجموعی آبی سلامتی مضبوط ہوسکتی ہے۔
البتہ قدرتی دریائی نظام اور ماحولیاتی توازن کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ کسی بھی دریا یا نالے کے پورے بہاؤ کو موڑنے کے بجائے ماحولیاتی ضروریات، مقامی آبادی اور زرعی تقاضوں کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے۔ ترقی اور ماحول کے درمیان یہی توازن طویل مدتی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

