Masarrat
Masarrat Urdu

برکس اور عالمی معیشت: کاربن ٹیکس،دانشورانہ املاک اور عالمی ویلیو چینز کا نیا منظرنامہ

Thumb

برکس (BRICS) اب محض ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک سیاسی اوراقتصادی پلیٹ فارم نہیں رہا بلکہ عالمی معیشت کے بدلتے ہوئے ڈھانچے میں اس کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ عالمی تجارت، موسمیاتی تبدیلی، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، دانشورانہ املاک اور عالمی ویلیو چینز جیسے معاملات میں ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے تحفظ کے لیے برکس ایک اہم آواز بن کر ابھر رہا ہے۔ حالیہ برکس اعلامیے میں کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) جیسے یکطرفہ اور امتیازی اقدامات کی مخالفت اسی وسیع تر اقتصادی اور ماحولیاتی بحث کا حصہ ہے۔

برکس رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے نام پر ایسے اقدامات نہیں ہونے چاہئیں جو ترقی پذیر ممالک کی برآمدات، صنعتی ترقی اور اقتصادی مواقع کو محدود کردیں۔ اسی کے ساتھ دانشورانہ املاک کے حقوق، مصنوعی ذہانت اور عالمی ویلیو چینز کے بارے میں برکس کا نقطہ نظر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مستقبل کی عالمی معیشت میں ترقی پذیر ممالک صرف صارف نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، پیداوار اور عالمی تجارت کے فعال شراکت دار بننا چاہتے ہیں۔

کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم بنیادی طور پر ایسی درآمدی اشیا پر کاربن کی قیمت عائد کرنے کا طریقہ ہے جن کی تیاری کے دوران زیادہ مقدار میں کاربن اخراج ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کسی ملک میں تیار ہونے والی مصنوعات اور درآمد کی جانے والی مصنوعات کے درمیان کاربن اخراج کی بنیاد پر مسابقتی فرق کو کم کیا جائے۔ یورپی یونین اور برطانیہ نے اس سلسلے میں اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

بظاہر یہ نظام موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایک ماحولیاتی اقدام دکھائی دیتا ہے، لیکن ترقی پذیر ممالک کے لیے اس کے معاشی اثرات انتہائی اہم ہیں۔ لوہے اور اسٹیل، سیمنٹ، کھاد اور ایلومینیم جیسی اشیا ترقی پذیر ممالک کی صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر ان مصنوعات پر اضافی کاربن لاگت عائد ہوتی ہے تو ان ممالک کی عالمی منڈی میں مسابقتی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔

برکس رہنماؤں نے اسی خدشے کے پیش نظر ایسے یکطرفہ، تعزیری اور امتیازی اقدامات کی مخالفت کی ہے جو ان کے مطابق بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی ذمہ داری مشترکہ ضرور ہے، لیکن تمام ممالک کی تاریخی ذمہ داری، اقتصادی صلاحیت اور ترقی کی ضروریات یکساں نہیں ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے ترقی پذیر ممالک پہلے ہی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک طرف انہیں سیلاب، خشک سالی، گرمی کی لہروں، سمندری سطح میں اضافے اور زرعی نقصانات جیسے مسائل کا سامنا ہے، دوسری طرف انہیں اپنی معیشت، روزگار اور صنعتی پیداوار میں بھی اضافہ کرنا ہے۔

اگر ماحولیاتی پالیسیوں کو اس انداز میں نافذ کیا جائے کہ ترقی پذیر ممالک کی برآمدات پر اضافی مالی بوجھ پڑے تو اس کا نتیجہ صنعتی ترقی کی رفتار میں کمی، روزگار کے مواقع میں کمی اور عالمی تجارت میں عدم مساوات کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ اس لیے برکس کا مطالبہ ہے کہ موسمیاتی اقدامات ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی اور تکنیکی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔

یہ بحث دراصل ماحولیاتی انصاف کے بنیادی سوال سے جڑی ہوئی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے صنعتی ترقی کے طویل عرصے کے دوران بڑی مقدار میں کاربن خارج کیا ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک اب بھی اقتصادی ترقی کے مرحلے میں ہیں۔ اس لیے موسمیاتی ذمہ داریوں کی تقسیم میں مساوات اور انصاف کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

برکس اعلامیے کا ایک اہم پہلو دانشورانہ املاک کے حقوق سے متعلق ہے۔ جدید عالمی معیشت میں علم، تحقیق، اختراع، پیٹنٹ، ٹیکنالوجی اور برانڈز کسی بھی ملک کی اقتصادی طاقت کے اہم ذرائع بن چکے ہیں۔ ایسے میں دانشورانہ املاک کا تحفظ ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

برکس ممالک نے دانشورانہ املاک کے دفاتر کے درمیان آگاہی، استعداد کار میں اضافے، آئی پی کی کمرشلائزیشن، پیٹنٹ کی جانچ، روایتی علم، ماخذ کے نام، جغرافیائی شناخت اور مصنوعی ذہانت کے استعمال جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

اس تعاون سے ترقی پذیر ممالک کو اپنی مقامی اختراعات، روایتی علم اور ثقافتی ورثے کو عالمی اقتصادی مواقع میں تبدیل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی خطے کی مخصوص زرعی پیداوار، روایتی دستکاری یا ثقافتی مصنوعات کو جغرافیائی شناخت کے ذریعے عالمی منڈی میں نمایاں کیا جاسکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت نے دانشورانہ املاک کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ بڑے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے وسیع پیمانے پر ڈیٹا استعمال ہوتا ہے، جس میں کتابیں، تصاویر، موسیقی، تحقیق، ثقافتی مواد اور دیگر تخلیقی کام شامل ہوسکتے ہیں۔ اس صورت حال میں یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ مواد تیار کرنے والے افراد اور اداروں کے حقوق کس طرح محفوظ کیے جائیں۔

برکس اعلامیے میں ڈیجیٹل ماحول، بالخصوص مصنوعی ذہانت کی تربیت کے مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے دانشورانہ املاک کے حقوق کا احترام کرنے اور حقوق کے حاملین کو منصفانہ معاوضہ دینے کی اہمیت تسلیم کی گئی ہے۔

یہ مسئلہ ترقی پذیر ممالک کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ ان کے علم، زبانوں، ثقافتی ورثے اور مقامی روایات کی اے آئی نظاموں میں نمائندگی اکثر محدود ہوسکتی ہے۔ اگر مقامی علم کو ڈیٹا سیٹس میں مناسب نمائندگی نہ ملے تو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار ہونے والا مواد یک طرفہ یا نامکمل ہوسکتا ہے۔ اس لیے ٹیکنالوجی میں شمولیت کے ساتھ ثقافتی اور علمی انصاف بھی ضروری ہے۔

عالمی ویلیو چینز جدید عالمی معیشت کا بنیادی حصہ ہیں۔ ایک مصنوعات کی تیاری میں خام مال ایک ملک سے پرزے دوسرے ملک سے ٹیکنالوجی، تیسرے ملک سے اور حتمی اسمبلنگ کسی اور ملک میں ہوسکتی ہے۔ اس طرح دنیا کی معیشتیں ایک دوسرے سے گہری طرح جڑ گئی ہیں۔

کووڈ-19 وبا، جنگوں، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ عالمی ویلیو چینز کا مضبوط، محفوظ اور لچکدار ہونا کتنا ضروری ہے۔ برکس رہنماؤں نے اسی لیے عالمی ویلیو چینز کو لچکدار، مؤثر، شفاف، محفوظ، منصفانہ، مستحکم اور سب کو شامل کرنے والا بنانے کے لیے تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

برکس ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں اضافہ اس سلسلے میں ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔ اگر رکن ممالک خام مال، صنعتی مصنوعات، ٹیکنالوجی، خدمات اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھاتے ہیں تو عالمی تجارت میں ان کی اجتماعی طاقت مزید مستحکم ہوسکتی ہے۔

عالمی ویلیو چینز میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل ادائیگیوں، خودکار نظام، ڈیٹا اینالیٹکس اور جدید مواصلاتی نظام نے پیداوار اور تجارت کے روایتی طریقوں کو تبدیل کردیا ہے۔برکس اعلامیے میں تجارتی سہولت کاری، صنعتی صلاحیتوں، اہم بنیادی ڈھانچے، بہتر رابطوں، دانشورانہ املاک کے تحفظ اور محفوظ و سستی ٹیکنالوجی تک رسائی کے لیے تکنیکی تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ نقطہ نظر ترقی پذیر ممالک کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔

برکس کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ اعلامیوں اور مشترکہ بیانات کو عملی اقتصادی تعاون میں تبدیل کیا جائے۔ اگر رکن ممالک واقعی باہمی تجارت، تحقیق، ٹیکنالوجی، صنعتی پیداوار، مالیاتی تعاون اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں مشترکہ منصوبے شروع کرتے ہیں تو برکس کی عالمی اقتصادی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔’برکس جی وی سی ایکشن پلان 2026-2030‘ کی تیاری اسی سمت میں ایک اہم قدم ہوسکتی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے رکن ممالک اپنی پیداواری صلاحیتوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے، سپلائی چین کے خطرات کم کرنے اور عالمی منڈی میں اپنی اجتماعی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

برکس کا کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم کی مخالفت کرنا محض کسی ایک تجارتی پالیسی کی مخالفت نہیں بلکہ عالمی اقتصادی نظام میں ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ منصفانہ جگہ کے مطالبے کی علامت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا پوری دنیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے، لیکن اس عمل میں اقتصادی ترقی، تاریخی ذمہ داری اور ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اسی طرح دانشورانہ املاک، مصنوعی ذہانت اور عالمی ویلیو چینز کے بارے میں برکس کا نقطہ نظر اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مستقبل کی عالمی معیشت میں علم، ٹیکنالوجی اور پیداوار کے وسائل تک منصفانہ رسائی انتہائی اہم ہوگی۔

اگر برکس اپنے مشترکہ مؤقف کو عملی تعاون، تکنیکی شراکت داری، باہمی تجارت اور پائیدار صنعتی ترقی میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ تنظیم ترقی پذیر دنیا کی اقتصادی آواز کو مزید مضبوط کرسکتی ہے۔ کاربن ٹیکس، مصنوعی ذہانت اور عالمی ویلیو چینز کے موجودہ مباحث دراصل ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کیا مستقبل کی عالمی معیشت چند طاقتور مراکز کے مفادات کے مطابق چلے گی یا ترقی پذیر ممالک کو بھی فیصلہ سازی اور اقتصادی مواقع میں برابر کا کردار ملے گا؟ برکس کا موجودہ مؤقف اسی دوسرے راستے کی حمایت کرتا دکھائی دیتا ہے۔

٭٭٭

 

Ads