چین مسلسل 12ویں ایشین گیمز میں طلائی اور مجموعی تمغوں کی فہرست میں سرفہرست رہا۔ اس نے 169 طلائی، 89 چاندی اور 83 کانسے کے تمغے جیتے اور مجموعی طور پر 341 تمغے حاصل کیے۔ یہ چین کے باہر منعقد ہونے والے کسی ایشین گیمز میں چین کا اب تک کا سب سے بڑا طلائی تمغوں کا مجموعہ ہے۔
ژانگ نے کہا کہ ناگویا میں چینی وفد کی کارکردگی میں چار اہم خصوصیات نمایاں رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایشیائی کھیلوں میں چین کی برتری مزید مستحکم ہوئی ہے۔ چینی وفد نے 38 کھیلوں اور 59 ڈسپلن کے 369 مقابلوں میں حصہ لیا، جن میں 38 ڈسپلن میں طلائی تمغے اور 47 میں تمغے حاصل کیے۔ یہ کارکردگی اس وقت سامنے آئی جب چین نے ہانگژو میں منعقدہ گزشتہ ایشین گیمز کے مقابلے میں کم کھلاڑیوں اور کم مقابلوں میں شرکت کی اور اس بار تمغوں کے لیے دستیاب مقابلوں کی تعداد بھی کم تھی۔
ژانگ کے مطابق چین کے نتائج کا معیار بھی قابل ذکر رہا۔ چینی کھلاڑیوں نے شوٹنگ، تیر اندازی، ایتھلیٹکس، تیراکی، ویٹ لفٹنگ اور ٹریک سائیکلنگ سمیت ان کھیلوں میں، جن کے ریکارڈ تسلیم کیے جاتے ہیں، پانچ عالمی ریکارڈ، 11 ایشیائی ریکارڈ اور 22 گیمز ریکارڈ توڑے۔
بیان میں کہا گیاکہ ’’خواتین کے جیولن تھرو اور ہیمر تھرو میں طلائی تمغہ جیتنے والی کارکردگی پیرس اولمپکس کے طلائی تمغے کے معیار کے برابر رہی، جبکہ چین کے مردوں کے 200 میٹر فری اسٹائل، مردوں کے 4x100 میٹر میڈلے ریلے اور خواتین کے 200 میٹر انفرادی میڈلے میں رواں سال اب تک کی دنیا کی بہترین ٹائمنگ سامنے آئی۔‘‘
ژانگ کے مطابق چین نے ان کھیلوں میں بھی پیش رفت کی جہاں وہ روایتی طور پر پیچھے رہا ہے۔ شِنہوا کے مطابق ٹرائیتھلون میں چین نے تینوں مقابلوں میں ایشین گیمز کی اپنی اب تک کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ایشیا میں اس کھیل پر جاپان کی طویل عرصے سے جاری بالادستی کا خاتمہ کیا۔
گھڑسواری کی ٹیم نے ٹیم ڈریساج میں پہلی مرتبہ ایشین گیمز کا طلائی تمغہ جیتا، جبکہ چین نے 20 سال کے وقفے کے بعد روڈ سائیکلنگ کا خطاب اور 12 سال بعد مردوں کے انفرادی ماڈرن پینٹاتھلون کا طلائی تمغہ دوبارہ حاصل کیا۔
ژانگ نے کہا کہ گیمز میں چینی کھلاڑیوں کی نئی نسل بھی ابھر کر سامنے آئی۔ چینی وفد کے 815 کھلاڑیوں میں سے 548، یعنی تقریباً دو تہائی، پہلی مرتبہ ایشین گیمز میں حصہ لے رہے تھے۔
انہوں نے کہاکہ ’’17 سالہ چن یوجی ایشیا کی کم عمر ترین خواتین 100 میٹر چیمپئن بنیں، جبکہ 18 سالہ یان زیئی نے صرف ایک تھرو کے ذریعے جیولن کا طلائی تمغہ جیتا۔ 14 سالہ یو زیدی نے تیراکی میں تین طلائی تمغے حاصل کیے اور ہر مقابلے میں ایشیائی یا گیمز ریکارڈ توڑا، جبکہ 19 سالہ ژانگ ژانشو نے تیراکی کے سات طلائی تمغے جیت کر ایک ہی ایڈیشن میں انفرادی طلائی تمغوں کی تعداد کے گیمز ریکارڈ کی برابری کی۔‘‘
لاس اینجلس اولمپکس کی تیاریوں کے حوالے سے ژانگ نے کہا کہ ناگویا گیمز نے اپنا مقصد پورا کر دیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان ایشین گیمز میں ہم نے اپنی ٹیم کو آزمانے، نئے ٹیلنٹ کو تلاش کرنے، مسائل کی نشاندہی کرنے اور جامع تربیت کرنے کے اپنے اہداف حاصل کیے ہیں۔ اس سے لاس اینجلس اولمپکس میں شاندار نتائج حاصل کرنے کے ہمارے اعتماد کو مزید تقویت ملی ہے۔‘‘
