تہران، 27 ستمبر(مسرت ڈاٹ کام) ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان نے کہا ہے کہ بعض اوقات امریکی دشمن کچھ بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن ایران کی اجازت کے بغیر ان جہازوں کے محفوظ گزرنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ دشمن کی پوری کوششوں کے باوجود آبنائے ایران کے مکمل کنٹرول میں ہے۔
تفصیلات کے مطابق جنرل شکارچی نے ٹی وی پروگرام میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کی پانچ دہائیوں اور ملک کے خلاف عالمی استکبار کی دشمنی کے دوران امریکہ سرپرستی میں بعثی حکومت کے ذریعے ایران پر آٹھ سالہ جنگ مسلط کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بذات خود کوئی اچھی چیز نہیں، لیکن بھاری نقصانات کے باوجود اس جنگ نے ایرانی قوم کو مشکلات کا مقابلہ کرنے اور ملک کے دفاع میں مزید کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے تیار کیا۔
جنرل شکارچی نے کہا کہ آٹھ سالہ دفاع مقدس کے ابتدائی دنوں ہی سے ایرانی مسلح افواج کی طاقت تشکیل پانا شروع ہوگئی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ دفاع مقدس کے دوران جنگ کے آغاز سے اختتام تک مسلح افواج نے سائنسی اور تکنیکی ترقی کے حوالے سے مسلسل پیش رفت کی۔
انہوں نے کہا کہ دفاع مقدس کی اہم ترین کامیابیوں میں، خدا کی عنایات کے علاوہ، عوامی بسیج ایک بے مثال مظہر تھا۔ عوامی بسیج نے جنگ میں محاذ جنگ اور عوامی معاونت کے میدانوں میں اہم کردار ادا کیا۔
جنرل شکارچی نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج امریکی فوجی مشیروں کے تسلط سے آزاد ہوچکی تھی اور اس کے بعد فوج کی قیادت مکتبی کمانڈروں نے سنبھالی۔ اسی دوران سپاہ پاسداران بھی فوج کے ساتھ ایک نئی اور طاقتور فورس کے طور پر تشکیل پائی اور ایران نے قابل ذکر طاقت حاصل کی۔
مسلح افواج کے سینئر ترجمان نے کہا کہ مسلح افواج نے مسلط کردہ جنگ کے دوران اور ایران کے دفاع کے ساتھ ساتھ اپنی جنگی صلاحیتوں میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف بھی قدم بڑھایا، جس کی ایک واضح مثال بعثی حکومت کے ساتھ جنگ کے دوران میزائل سازی کا آغاز تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد مسلح افواج میں سب سے اہم تبدیلی دفاعی نظریے کو روایتی جنگ سے غیر متناسب جنگ کی جانب منتقل کرنا تھا۔
جنرل شکارچی نے کہا کہ روایتی طریقے غیر متناسب جنگ کے مقابلے میں شکست پذیر ہوتے ہیں۔ غیر متناسب جنگ کا مطلب یہ ہے کہ کم اخراجات اور نسبتاً سادہ لیکن مؤثر اور کارآمد دفاعی سازوسامان کے ذریعے دشمن کے مہنگے اور بھاری ہتھیاروں کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہوا جائے اور کامیابی حاصل کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں غیر متناسب جنگ کی حکمت عملیاں ایثار، اعتقاد اور روحانیت کی بنیاد پر استوار ہیں۔
