Masarrat
Masarrat Urdu

مہاجر پرندے اور ماحولیات کے مسائل: ہندوستانی تناظر میں

Thumb

دنیا میں مہاجر پرندے ایک ایسا حیرت انگیز مظہر ہیں جو زمین کے مختلف حصوں کو ایک غیر مرئی ماحولیاتی رشتے میں باندھ دیتے ہیں۔ یہ پرندے ہر سال ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر کے مختلف ممالک، خطّوں اور ماحولیاتی نظاموں سے گزرتے ہیں۔ ان کی ہجرت صرف بقا کی جدوجہد نہیں بلکہ قدرتی توازن کو برقرار رکھنے کا ایک لازمی عمل بھی ہے۔ ہندوستان اپنی جغرافیائی وسعت، متنوع آب و ہوا اور حیاتیاتی تنوع کی بدولت دنیا کے اہم ترین مہاجر پرندوں کے مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ایشیا، یورپ اور افریقہ سے آنے والے لاکھوں پرندے ہر سال ہندوستانی جھیلوں، دلدلی علاقوں، ساحلی پٹیوں اور جنگلات میں عارضی قیام کرتے ہیں۔

لیکن موجودہ دور میں تیز رفتار شہری ترقی، صنعتی سرگرمیاں، آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی نے مہاجر پرندوں کی بقا کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ان مسائل کا اثر نہ صرف پرندوں پر بلکہ پورے ماحولیاتی نظام پر پڑ رہا ہے۔

مہاجر پرندے وہ پرندے ہوتے ہیں جو سال کے مخصوص حصّوں میں ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ یہ ہجرت عام طور پر موسمی حالات، خوراک کی دستیابی اور افزائشِ نسل کی ضروریات کے تحت ہوتی ہے۔ ماہرینِ حیاتیات کے مطابق مہاجر پرندوں کو بنیادی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

اوّل، سردیوں میں آنے والے مہاجر پرندے، جو شدید سرد علاقوں مثلاً سائبیریا، وسطی ایشیا، یورپ اور منگولیا سے ہندوستان کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں سائبیرین کرین، بار ہیڈڈ گوز، نارتھ پِن ٹیل، روسی بطخیں اور فلیمنگو شامل ہیں۔ دوم، گرمیوں میں آنے والے مہاجر پرندے، جو افزائشِ نسل کے لیے ہندوستانی خطّوں کو منتخب کرتے ہیں، جیسے کوئل، بعض ابابیلیں اور کیچرز۔ سوم، داخلی یا مقامی مہاجر پرندے، جو ہندوستان کے اندر ہی ایک ریاست یا خطّے سے دوسرے خطّے میں نقل مکانی کرتے ہیں، مثلاً پہاڑی علاقوں سے میدانی علاقوں کی طرف آنے والے پرندے۔

ہندوستان کا جغرافیہ مہاجر پرندوں کے لیے نہایت موزوں سمجھا جاتا ہے۔ شمال میں ہمالیہ کے بلند پہاڑ، جنوب میں وسیع ساحلی پٹیاں، مشرق میں دلدلی ڈیلٹا، مغرب میں صحرائی علاقے اور ملک بھر میں پھیلی ہوئی جھیلیں اور ندیاں پرندوں کو متنوع مسکن فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان دنیا کے بڑے فلائی ویز یعنی Central Asian Flyway کا ایک اہم حصّہ ہے۔

چِلّیکا جھیل، کیولادیو نیشنل پارک بھارت پور، ویمباناد جھیل، پوائنٹ کلیمیر، نل سرور جھیل، لوک ٹک جھیل اور سندربن کے دلدلی علاقے مہاجر پرندوں کے لیے عالمی سطح پر اہم مانے جاتے ہیں۔ یہ مقامات نہ صرف پرندوں کو خوراک اور آرام فراہم کرتے ہیں بلکہ مقامی ماحولیاتی نظام کو بھی مستحکم رکھتے ہیں۔

مہاجر پرندوں کی ہجرت کے پیچھے کئی فطری عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ سرد علاقوں میں موسم کی شدت، خوراک کی کمی اور برف باری پرندوں کو گرم خطّوں کی طرف جانے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی طرح افزائشِ نسل کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول کی تلاش بھی ہجرت کی ایک بڑی وجہ ہے۔

قدرت نے مہاجر پرندوں کو حیرت انگیز سمت شناسی کی صلاحیت عطا کی ہے۔ یہ پرندے سورج، ستاروں، زمین کے مقناطیسی میدان، ہوا کے رخ اور زمینی نشانات کی مدد سے درست سمت کا تعین کرتے ہیں۔ جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بعض پرندے نسل در نسل ہجرت کے راستے یاد رکھتے ہیں، جو ان کی بقا کے لیے نہایت اہم ہے۔

مہاجر پرندے ماحولیاتی نظام میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بیجوں کی ترسیل، کیڑوں کی آبادی پر کنٹرول اور غذائی زنجیر کے توازن میں مدد دیتے ہیں۔ کئی پرندے نقصان دہ کیڑوں کو کھا کر فصلوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، جس سے زرعی معیشت کو فائدہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ، مہاجر پرندے ماحولیاتی صحت کے اشاریے سمجھے جاتے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں پرندوں کی تعداد کم ہونے لگے تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہاں ماحولیاتی بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ اس طرح پرندے قدرتی انتباہی نظام کا کام انجام دیتے ہیں۔

ہندوستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، شہری توسیع، صنعت کاری اور زرعی سرگرمیوں نے قدرتی مسکن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دلدلی علاقوں کو خشک کر کے زرعی زمین یا رہائشی منصوبوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جس سے مہاجر پرندوں کے قیام اور خوراک کے مقامات ختم ہوتے جا رہے ہیں۔

پانی اور ہوا کی آلودگی مہاجر پرندوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ صنعتی فضلہ، کیمیائی کھادیں، کیڑے مار ادویات اور پلاسٹک کا کچرا جھیلوں اور ندیوں کو آلودہ کر رہا ہے۔ یہ زہریلے مادے غذائی زنجیر کے ذریعے پرندوں کے جسم میں داخل ہو کر ان کی صحت اور افزائشِ نسل کو متاثر کرتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی مہاجر پرندوں کے لیے سب سے بڑا عالمی چیلنج بن چکی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، بارش کے نظام میں تبدیلی اور شدید موسمی واقعات نے پرندوں کی ہجرت کے اوقات اور راستوں کو متاثر کیا ہے۔ کئی اقسام کے پرندے اب وقت پر مناسب مسکن تک نہیں پہنچ پاتے، جس سے ان کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

اگرچہ ہندوستان میں پرندوں کے شکار پر قانونی پابندی ہے، مگر اس کے باوجود غیر قانونی شکار اور اسمگلنگ کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ بعض علاقوں میں مہاجر پرندوں کو خوراک یا تجارت کے لیے مارا جاتا ہے، جو ان کی تعداد میں کمی کا سبب بنتا ہے۔

انسانی ترقی کے منصوبے جیسے ڈیم، سڑکیں، ہوائی اڈے، بجلی کی لائنیں اور ونڈ ٹربائنز مہاجر پرندوں کے لیے نئے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ بلند عمارتوں اور روشنی کی آلودگی کی وجہ سے پرندے راستہ بھٹک جاتے ہیں اور حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

سیاحت کے بڑھتے ہوئے رجحان نے بھی پرندوں کی پناہ گاہوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ بے ہنگم سیاحتی سرگرمیاں شور اور آلودگی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں، جس سے پرندوں کا قدرتی رویّہ متاثر ہوتا ہے۔

مہاجر پرندوں کے تحفظ کے لیے ہندوستان میں مختلف قوانین اور پالیسیاں نافذ ہیں۔ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972 پرندوں کے شکار اور تجارت پر پابندی عائد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان رامسر کنونشن کا رکن ہے، جس کے تحت دلدلی علاقوں کو عالمی اہمیت کی حامل سائٹس قرار دیا جاتا ہے۔

حکومتِ ہند نے مہاجر پرندوں کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر ایکشن پلان بھی تیار کیے ہیں۔ مختلف تحقیقی ادارے اور غیر سرکاری تنظیمیں پرندوں کی نگرانی، تحقیق اور عوامی آگاہی کے پروگرام چلا رہی ہیں۔

مہاجر پرندوں کے تحفظ میں مقامی برادری کا کردار نہایت اہم ہے۔ جب مقامی لوگوں کو تحفظ کے فوائد سے آگاہ کیا جاتا ہے اور انہیں پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں تو وہ قدرتی وسائل کی حفاظت میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن کے کئی ماڈلز ہندوستان میں کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔

تعلیم اور تحقیق مہاجر پرندوں کے تحفظ کی بنیاد ہیں۔ اسکولوں اور جامعات میں ماحولیاتی تعلیم، پرندوں کی مردم شماری، اور جدید ٹیکنالوجی جیسے سیٹلائٹ ٹیگنگ اور جی پی ایس ٹریکنگ کے ذریعے ہجرت کے راستوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عوامی شعور بیدار کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مستقبل میں مہاجر پرندوں کو درپیش مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قدرتی مسکن کی بحالی، آلودگی پر سخت کنٹرول، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی جامع حکمتِ عملی اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ چونکہ مہاجر پرندے سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے، اس لیے ان کا تحفظ عالمی سطح پر مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مہاجر پرندے قدرتی نظام کا ایک ناگزیر حصّہ ہیں۔ ہندوستانی تناظر میں ان کی اہمیت حیاتیاتی تنوع، ماحولیاتی توازن اور ثقافتی ورثے سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اگر انسان نے اپنی سرگرمیوں کو ماحول دوست نہ بنایا تو یہ پرندے اور ان کے ساتھ جڑا ہوا قدرتی حسن معدوم ہو سکتا ہے۔

لہٰذا، حکومت، اداروں، سائنس دانوں، مقامی برادریوں اور عام شہریوں کو مل کر مہاجر پرندوں اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی ان پرندوں کی آزادانہ پرواز اور قدرت کی ہم آہنگی سے لطف اندوز ہو سکیں۔

٭٭٭

(بشکریہ: یواین آئی)

Ads