جامعہ انتظامیہ کے جاری کردہ حکم کے مطابق، طلبہ یونین کے آئین کی تشکیل کے 15 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے۔ تاہم، طلبہ کا اعتراض ہے کہ جب تک یونین کے آئین کو حتمی شکل دے کر منظور نہیں کیا جاتا اور انتخابی عمل کے لیے واضح نظام الاوقات جاری نہیں ہوتا، اس وقت تک انتخابات کے انعقاد کی کوئی یقینی مدت سامنے نہیں آتی۔ اسی وجہ سے طلبہ نے انتظامیہ کی یقین دہانی کو ناکافی قرار دیا ہے۔
طلبہ کے مطابق، وہ طویل عرصے سے طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یونین طلبہ کی نمائندگی، ان کے مسائل کو انتظامیہ تک پہنچانے اور تعلیمی ادارے میں جمہوری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے نزدیک انتخابات کے انعقاد میں مزید تاخیر طلبہ کی نمائندگی کے عمل کو متاثر کر رہی ہے۔
جامعہ انتظامیہ نے اپنے حکم میں احتجاج کرنے والے طلبہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ انتظامیہ کے خلاف دیے گئے قابل اعتراض بیانات اور سوشل میڈیا پر شائع کی گئی متعلقہ پوسٹس ہٹائیں۔ حکم کے مطابق، طلبہ کو پریس کانفرنس کے ذریعے عوامی طور پر معافی بھی مانگنی ہوگی اور احتجاج فوری طور پر ختم کرنا ہوگا۔
تاہم، بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ اور احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے والے طلبہ نمائندوں نے ان شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے اور جب تک انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا جاتا، ان کی بھوک ہڑتال اور احتجاج جاری رہے گا۔
طلبہ نے انتظامیہ کے حکم کو غیر واضح قرار دیتے ہوئے کہا کہ محض یقین دہانیوں سے ان کے بنیادی مطالبات پورے نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق، انتظامیہ کو انتخابات کے انعقاد، یونین کے آئین کی منظوری اور دیگر مطالبات کے بارے میں واضح تحریری فیصلہ جاری کرنا چاہیے۔
طلبہ تنظیم کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، جامعہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی پیر کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے احتجاج کرنے والے طلبہ سے ملاقات کے لیے کیمپس پہنچے۔ انہوں نے انتظامیہ کے سرکاری حکم کی نقل طلبہ کے حوالے کی اور انہیں احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔
طلبہ کے مطابق، رجسٹرار نے دعویٰ کیا کہ انتظامیہ نے ان کے مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، لیکن احتجاج کرنے والے طلبہ نے حکم کے مندرجات پر اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکم میں طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کے انعقاد سے متعلق بنیادی نکات پوری طرح واضح نہیں کیے گئے ہیں۔
جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے بھی اس معاملے پر اپنے بیان میں کہا کہ انتظامیہ کے حکم میں طلبہ یونین کی بحالی کے بارے میں واضح اعلان موجود نہیں ہے۔ تنظیم کے مطابق، انتخابات کے لیے حتمی تاریخ اور آئین کی منظوری سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے، جس کے باعث طلبہ کے خدشات دور نہیں ہو سکے۔
جامعہ انتظامیہ کے حکم میں احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف جاری کیے گئے معطلی کے احکامات اور وجہ بتاؤ نوٹس منسوخ کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ احتجاج کے دوران سکیورٹی عملے کے طرزِ عمل کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
طلبہ نے ان اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سے متعلق بعض معاملات پر پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن طلبہ یونین کے انتخابات کے انعقاد کا بنیادی مسئلہ اب بھی حل طلب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے یونین کے آئین کی منظوری اور انتخابات کے لیے واضح مدت مقرر نہیں کی، جبکہ پراکٹر کے استعفے کے مطالبے پر بھی حکم میں کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
طلبہ نمائندوں کے مطابق، ان کی تحریک کا مقصد جامعہ میں طلبہ کی جمہوری نمائندگی بحال کرنا اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انتظامیہ کو ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن سے انتخابات کے انعقاد کے بارے میں پائے جانے والے خدشات ختم ہوں اور طلبہ کو کسی غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
احتجاج کرنے والے طلبہ نے واضح کیا ہے کہ وہ انتظامیہ کے موجودہ حکم کو اپنے مطالبات کی مکمل منظوری نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق، جب تک انتخابات کی حتمی تاریخ، یونین کے آئین کی منظوری اور دیگر اہم معاملات پر واضح تحریری فیصلہ جاری نہیں کیا جاتا، تب تک بھوک ہڑتال اور احتجاج جاری رہے گا۔
جامعہ انتظامیہ کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کے لیے آئین کی تشکیل کے بعد 15 دن کی مدت مقرر کرنے کو ایک پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم آئین کی منظوری اور انتخابی عمل کے آغاز کے وقت سے متعلق ابہام کے باعث تعطل برقرار ہے۔
فی الحال جامعہ میں طلبہ یونین انتخابات کے معاملے پر انتظامیہ اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے درمیان اختلافات دور نہیں ہو سکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں انتظامیہ کی جانب سے مزید وضاحت یا طلبہ کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں ہی یہ طے ہو سکے گا کہ انتخابات کے انعقاد کے لیے کوئی متفقہ لائحۂ عمل سامنے آتا ہے یا احتجاج مزید طول پکڑتا ہے۔
