Masarrat
Masarrat Urdu

امریکی صحافی کی پٹائی کے بعد روبیو نے اسرائیل سے مغربی کنارے میں تشدد پر قابو پانے کی اپیل کی

  • 18 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

واشنگٹن، 18 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں امریکی فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوین کی مبینہ پٹائی کے واقعے سے امریکہ کو گہری تشویش ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے یہودی بستیوں کے رہنے والوں کے تشدد پر قابو پانے کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس علاقے میں نئے بحران سے بچنا چاہتے ہیں۔

مسٹر روبیو نے صحافیوں سے کہاکہ ’’ہم نے اسرائیلی حکام سے ایسے واقعات پر سختی سے قابو پانے کے لیے کہا ہے اور آئندہ بھی کہتے رہیں گے۔‘‘ انہوں نے اس واقعے کو تشویش ناک قرار دیا اور کہا کہ امریکہ اپنے سفارت خانے کے ذریعے معاملے کی پوری معلومات حاصل کر رہا ہے۔ مسٹر روبیو نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ مغربی کنارے میں دوبارہ کشیدگی یا نیا بحران نہیں چاہتے۔ حالیہ دنوں میں زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران تشدد میں اضافے کے باعث وہاں تشویش بڑھ گئی ہے۔ بڑے بحران کے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسٹر روبیو نے کہا کہ ’’اس وقت ہمیں ایسی کسی کشیدگی کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی اسرائیل کو اس کی ضرورت ہے۔‘‘

محترمہ لیوین جمعہ کو فلسطینیوں کی سالانہ زیتون کی فصل کی کٹائی کی رپورٹنگ کر رہی تھیں، تب مبینہ طور پر اسرائیلی بستیوں کے کچھ رہنے والوں نے کئی فلسطینیوں کے ساتھ ان پر بھی حملہ کر دیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ان کی پٹائی کی اور ان کا پاسپورٹ، فون، بٹوا اور کیمرے سے متعلق آلات چھین لیے۔ محترمہ لیوین نے کہاکہ ’’وہ تقریباً 10 منٹ تک مجھے لاتیں مارتے رہے، جبکہ میں اپنے کیمرے اور بیگ کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔‘‘

مسٹر روبیو نے کہا کہ انہوں نے واقعے کی ویڈیو دیکھی ہے، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ امریکہ کو ابھی تمام حقائق کی تصدیق کرنا باقی ہے۔ امریکی حکام نے سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے اور واقعے کی مکمل رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’اگر تحقیقات میں واقعہ ویسا ہی پایا جاتا ہے جیسا کہ دکھائی دے رہا ہے، تو ہمارے پاس اسرائیلی فریق کو یہ واضح پیغام دینے کے طریقے موجود ہیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ہم ان سے کیا توقع رکھتے ہیں۔‘‘

ان کا یہ تبصرہ ان سوالات کے بعد سامنے آیا ہے جو گزشتہ سال صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی دن اسرائیلی آبادکاروں پر عائد پابندیاں ہٹانے کے فیصلے کے حوالے سے اٹھائے جا رہے تھے۔ مسٹر روبیو نے واضح کیا کہ پابندیاں ہٹانے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ صدر مغربی کنارے میں ہونے والے تشدد کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’پابندیاں ہٹانے کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ وہ ٹیلی ویژن پر جو دیکھ رہے ہیں یا رپورٹوں میں جو پڑھ رہے ہیں، اس کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ امریکہ زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جب بڑی تعداد میں فلسطینی اور دیگر لوگ زرعی علاقوں میں جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لبنان میں بھی اسی طرح کی تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔

اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے الگ سے اس واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مسٹر ہکابی نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر لکھاکہ ’’ایک خاتون فوٹو جرنلسٹ پر حملہ نقاب پوش بزدلوں کی جانب سے کی گئی ایک گھناؤنی دہشت گردانہ کارروائی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ غیر مسلح صحافی پر حملہ کرنے والوں کو جیل کی سزا ملنی چاہیے۔

اس واقعے نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کی جانب ایک بار پھر توجہ مبذول کرائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے علاقے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے معاملے میں امریکہ کو درپیش چیلنج بھی اجاگر ہوا ہے۔

 

Ads