کانگریس کے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے اتوار کو کہا کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی گزشتہ دو سال سے ووٹر فہرستیں فراہم کرنے کا مسلسل مطالبہ کرتے رہے ہیں، لیکن کمیشن مسلسل اس مطالبے کو مسترد کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے 2018 میں مدھیہ پردیش میں کانگریس کی جانب سے لاکھوں جعلی ووٹرز کا پتہ لگائے جانے کے بعد 'سرچ ایبل' فارمیٹ میں ووٹر فہرستیں دینا بند کر دیا تھا۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ ابھی 15 اکتوبر کو الیکشن کمیشن نے حکم جاری کر کے دو سال کے وقفے کے بعد 17 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں دوبارہ شروع ہونے والے 'اسپیشل سمری ریویژن' (ایس ایس آر) کے لیے سیاسی جماعتوں کو قابلِ تلاش فارمیٹ والی ووٹر فہرستیں—یعنی ایسی ووٹر فہرستیں جن میں نام آسانی سے تلاش کیے جا سکیں—فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ 'ووٹ چوری' کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان سامنے آیا ہے۔
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ جب بھی 'ووٹ چوری' پکڑی جاتی ہے، مودی حکومت ایک نئی حکمتِ عملی اپنا لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پڑھنے کے قابل ووٹر فہرستیں فراہم کرنے پر پابندی لگائی گئی، پھر جعلی ووٹرز کے نام شامل کرنے اور ایس آئی آر جیسے اقدامات اٹھائے گئے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی اور مسٹر شاہ کی ہدایات پر کام کرنے والے چیف الیکشن کمشنر کمار نے الیکشن کمیشن پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے، اس لیے انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صرف چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانا ہی کافی نہیں ہوگا، بلکہ الیکشن کمیشن اور اس کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام میں بھی بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنی ہوں گی۔
انہوں نے 13 کروڑ سے زائد ہندستانیوں کے آئینی حقِ رائے دہی کو خطرے میں ڈالنے والے 'ایس آئی آر' کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔
