لیکورنو نے صحافیوں سے کہاکہ ’’اعداد و شمار اپ ڈیٹ کیے جا رہے ہیں اور ابھی جب میں آپ سے بات کر رہا ہوں، اس وقت تک حراست میں لیے گئے لوگوں کی کل تعداد 1200 ہو گئی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید بتایا کہ بدامنی کے دوران قانون نافذ کرنے والے 150 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
فرانس بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہفتہ کو بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ان مظاہروں کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ اس کے علاوہ فسادات، لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی سامنے آئے۔ بھیڑ کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس، اسٹن گرینیڈ اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
بدامنی کے دوران شرپسند عناصر نے لیموج، مارسی اور لیل کے بلدیاتی دفاتر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔ لیموج میں بلدیاتی دفتر کی نچلی منزل پر آگ لگا دی گئی، جو بعد میں چھت تک پھیل گئی۔ لیون میں ایک سیاحتی دفتر کو لوٹنے کے بعد اس میں آگ لگا دی گئی۔
مجموعی طور پر فرانس بھر میں احتجاجی مظاہروں میں 5 لاکھ 50 ہزار لوگوں نے حصہ لیا، جن میں سے ایک لاکھ 10 ہزار افراد پیرس میں شامل تھے۔
