Masarrat
Masarrat Urdu

فرانس میں بدامنی کے دوران کم از کم 1200 افراد حراست میں لیے گئے، 150 پولیس اہلکار زخمی

  • 18 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

پیرس، 18 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) فرانس کے وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو نے بتایا کہ ملک میں بدامنی کے دوران حراست میں لیے گئے لوگوں کی تعداد 1200 تک پہنچ گئی ہے اور مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں 150 پولیس اہلکار اور سکیورٹی افسران زخمی ہوئے ہیں۔

لیکورنو نے صحافیوں سے کہاکہ ’’اعداد و شمار اپ ڈیٹ کیے جا رہے ہیں اور ابھی جب میں آپ سے بات کر رہا ہوں، اس وقت تک حراست میں لیے گئے لوگوں کی کل تعداد 1200 ہو گئی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا کہ بدامنی کے دوران قانون نافذ کرنے والے 150 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

فرانس بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہفتہ کو بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ان مظاہروں کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ اس کے علاوہ فسادات، لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی سامنے آئے۔ بھیڑ کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس، اسٹن گرینیڈ اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔

بدامنی کے دوران شرپسند عناصر نے لیموج، مارسی اور لیل کے بلدیاتی دفاتر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔ لیموج میں بلدیاتی دفتر کی نچلی منزل پر آگ لگا دی گئی، جو بعد میں چھت تک پھیل گئی۔ لیون میں ایک سیاحتی دفتر کو لوٹنے کے بعد اس میں آگ لگا دی گئی۔

مجموعی طور پر فرانس بھر میں احتجاجی مظاہروں میں 5 لاکھ 50 ہزار لوگوں نے حصہ لیا، جن میں سے ایک لاکھ 10 ہزار افراد پیرس میں شامل تھے۔

 

Ads