تہران، 16 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کے حقوق کا احترام نہ کیے جانے کی صورت میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر عائد پابندیاں برقرار رہیں گی۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی نے تہران کی امام علی (ع) ملٹری یونیورسٹی کی مسجد میں منعقدہ اعتکاف کی گیارہویں قومی کانگریس اور آٹھویں بین الاقوامی علمی، ادبی و فنونِ لطیفہ فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی طاقت کے چار بنیادی عناصر نے دشمن کے اندازوں کو ناکام بنا دیا۔
جنرل حاتمی نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایرانی عوام کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرتے ہوئے میدان میں کردار ادا کیا۔ ان کے بقول، رہبرِ معظم انقلاب کے الفاظ میں جنگ کے ابتدائی دنوں میں عوام نے ہی حالات کو سنبھالا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی میدان میں موجودگی اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کا ایک اہم عنصر تھی اور جنگی حالات میں عوام نے میدان میں آ کر دشمن کے اندازوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایرانی فوج کے سربراہ نے مسلح افواج کو ملک کی طاقت کا دوسرا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج نے پوری قوت کے ساتھ دشمن کو جواب دیا اور ابتدائی گھنٹوں ہی میں دشمن کی جانب سیکڑوں فائر کیے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوری ایران کی فوج اور سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے بڑی تعداد میں کمانڈروں اور عہدیداروں کی شہادت کے باوجود اپنی کارروائیاں جاری رکھیں اور ان واقعات سے مسلح افواج کی عملی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں۔
جنرل حاتمی نے حکومتی اداروں اور ملک کے انتظامی ڈھانچے کے تسلسل کو ایران کی طاقت کا تیسرا ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ اہم عہدیداروں کی شہادت کے باوجود انتظامی، سیاسی، اقتصادی، عدالتی اور سکیورٹی کے شعبوں میں حکومتی نظام کام کرتا رہا اور ملک کو اس نوعیت کی رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا جس کی دشمن توقع کر رہا تھا۔
انہوں نے جغرافیائی اور تزویراتی محلِ وقوع کو ایران کی طاقت کا چوتھا ستون قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ محلِ وقوع اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کے اہم ذرائع میں سے ایک ہے۔
امیر حاتمی نے واضح کیا کہ اگر دشمن کی جانب سے ایرانی قوم کے حقوق کا احترام نہیں کیا گیا تو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق پابندیاں جاری رہیں گی۔
