صنعا، 16 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) یمن کی وزارت صحت کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے حملوں اور محاصرے کے باعث ملک کا طبی نظام شدید متاثر ہوا ہے، 139 اسپتال مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور لاکھوں مریضوں کو ضروری ادویات اور طبی سہولتوں کی قلت کا سامنا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی وزارت صحت و ماحولیات کے ترجمان انیس الاصبحی نے صوبہ تعز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سعودی حملوں اور محاصرے کے نتیجے میں ملک کے طبی شعبے کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات بیان کیں۔
انہوں نے بتایا کہ حملوں کے دوران 139 اسپتال مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جبکہ تقریباً 190 ایمبولینسیں بھی تباہ ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق، یمن کے تقریباً 55 فیصد صحت مراکز اور طبی ادارے حملوں کا نشانہ بنے یا غیر فعال ہو گئے ہیں۔
ترجمان نے محاصرے اور عائد پابندیوں کے باعث ادویات کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہزار 600 سے زائد اقسام کی ادویات کی عدم دستیابی نے مریضوں کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر دی ہیں، جن میں سرطان کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی 12 اقسام کی ادویات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کینسر کے ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد مریض ضروری ادویات کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ اسی طرح تھیلیسیمیا اور خون کی دیگر بیماریوں میں مبتلا 40 ہزار سے زائد مریضوں، جبکہ گردوں کی ناکامی کا شکار 8 ہزار سے زائد افراد کو بھی ادویات، طبی آلات اور علاج کے ضروری سامان کی کمی کا سامنا ہے۔
انیس الاصبحی نے مزید کہا کہ صنعاء ایئرپورٹ کی بندش کے باعث بڑی تعداد میں مریض بیرون ملک علاج کے لیے سفر نہیں کر پا رہے، جبکہ ضروری ادویات اور طبی آلات کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے بچوں میں غذائی قلت کی صورت حال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ پانچ سال سے کم عمر کے 36 لاکھ سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جن میں 18 لاکھ سے زیادہ بچے انتہائی شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، پانچ سال سے کم عمر کے 45 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کے باعث قد کی نشوونما میں کمی کا شکار ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ 2017 سے 2024 کے دوران 60 لاکھ سے زائد حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین بھی درمیانے درجے اور شدید غذائی قلت سے متاثر ہوئیں۔
انیس الاصبحی کے مطابق، یمن میں انسانی بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے 2 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے حالیہ حملوں میں جانی نقصان کے اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے کہا کہ 3 ستمبر سے 5 اکتوبر 2026 کے دوران مجموعی طور پر 120 افراد شہید اور 307 زخمی ہوئے۔ اس طرح حالیہ حملوں میں شہدا اور زخمیوں کی مجموعی تعداد 427 ہو گئی، جن میں 60 فیصد سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں۔
انہوں نے صوبہ تعز، صعدہ اور جوف کو ان علاقوں میں شمار کیا جہاں حملوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔
یمن کی وزارت صحت کے ترجمان نے شہریوں اور طبی مراکز پر حملوں کے حوالے سے عالمی برادری کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ حملوں کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنانے اور یمن کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ وزارت صحت یمن متعدد مرتبہ بین الاقوامی اداروں سے صنعاء ایئرپورٹ دوبارہ کھولنے اور مریضوں کے لیے ضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کی اپیل کر چکی ہے، تاہم ان کے بقول، ان مطالبات پر مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
انیس الاصبحی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حملوں میں شدت یمنی عوام کے حوصلے اور ثابت قدمی کو کمزور نہیں کر سکے گی۔
