تہران، 15 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ ایران کو فوجی طاقت اور سفارت کاری کے ذریعے پائیدار ڈیٹرنس قائم کرنا ہوگی تاکہ امریکہ ایرانی قوم کے جائز مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ کو سزا ملنی چاہیے، اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہیے اور ایرانی قوم کے جائز مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہونا چاہیے۔
قالیباف نے کہا کہ ایران کو میدان جنگ میں دشمن کے خلاف بہادری سے لڑنے کے ساتھ مذاکرات بھی کرنے چاہییں تاکہ پائیدار دفاعی ڈیٹرنس قائم کی جا سکے۔ ایران کو اس قدر طاقتور ہونا چاہیے کہ امریکہ سمیت دنیا اور خطے کے دیگر ممالک سمجھ جائیں کہ وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار ڈیٹرنس کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ ایران اپنی طاقت کا ثبوت علاقائی اور عالمی قوتوں کے سامنے پیش کرے، تاکہ کوئی بھی ملک اس پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے آٹھ سالہ دفاع مقدس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے صدام حسین کی بعثی حکومت کے خلاف جنگ میں بھاری اخراجات اور مشکلات برداشت کیں، لیکن اس کے بعد کئی دہائیوں تک کسی نے ایران پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہی حقیقی ڈیٹرنس ہے کہ کوئی بھی ملک ایران پر حملے کا سوچنے کی جرأت نہ کرے اور اگر کوئی ایسا خیال ذہن میں لائے تو اسے ماضی کے تجربات سے سبق حاصل ہو اور وہ سمجھ جائے کہ ایران سے ٹکرانا آسان نہیں ہے۔
قالیباف نے واضح کیا کہ طاقتور بننے کا مطلب صرف فوجی قوت میں اضافہ کرنا نہیں، بلکہ ڈیٹرنس کے کئی عوامل ہیں۔ ان میں فوجی صلاحیت، فضائی دفاع، قومی اتحاد، مزاحمتی محاذ کی طاقت، آبنائے ہرمز پر نگرانی، سماجی و اقتصادی استقامت اور روشن مستقبل کا تصور شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 12 روزہ جنگ اور حالیہ جنگ کے دوران ایران کی فوجی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایران کی فائر پاور، حملہ کرنے کی صلاحیت اور فضائی دفاع زیادہ طاقتور اور مؤثر ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں دشمن کو شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے ڈرونز سے لے کر ایف 35 طیاروں تک کے حوالے سے ایران کی دفاعی صلاحیتوں کے اثرات کا ذکر کیا۔
قالیباف نے کہا کہ ایران کا مقصد اپنی طاقت میں اضافہ کرکے دشمن کے ذہن میں یہ حقیقت راسخ کرنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ اس مقصد کے لیے ایران ضرورت پڑنے پر پوری قوت سے جنگ کرے گا، اپنی تیاریوں کو بہتر بنائے گا اور میدان جنگ میں حاصل ہونے والی فوجی کامیابیوں کو سیاسی کامیابیوں میں تبدیل کرکے مستحکم کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو اپنے مفادات کے تحفظ، وسائل میں اضافے اور اپنی طاقت مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری مراعات حاصل کرنا ہوں گی، تاکہ اسے اپنی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے درکار وقت بھی مل سکے۔
ایرانی اسپیکر کے مطابق، ایران نے جنگ، مذاکرات اور امن کے روایتی سلسلے کے بجائے جنگ، مذاکرات اور ڈیٹرنس کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی کا مقصد دشمن کو اس حد تک بے بس کرنا ہے کہ وہ ایرانی قوم کے جائز مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے۔
قالیباف نے مفاہمتی دستاویز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے وعدوں پر عدم اعتماد کے باعث اس دستاویز کو دو مراحل میں ترتیب دیا گیا تھا۔ ایران نے پہلے میدان جنگ میں اسٹریٹجک برتری حاصل کی، پھر امریکہ کو مفاہمت قبول کرنے پر مجبور کیا اور ایسی دستاویز حاصل کی جسے وہ دشمن کی شکست کا ثبوت سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مفاہمت سے ایران کی مسلح افواج اور حزب اللہ لبنان کو اپنی صلاحیتیں مزید مضبوط بنانے کا موقع ملا، جبکہ ایران کو اپنی قومی طاقت کے مختلف عوامل بہتر بنانے کے لیے وقت اور وسائل بھی میسر آئے۔
امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کردہ حالیہ تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ ایرانی مؤقف پہلے بھی واضح تھا اور اب بھی یہی ہے کہ امریکی صدر نے وعدے کیے، لیکن امریکہ نے ان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عہد شکنی کی۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ کو سزا ملنی چاہیے، اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہیے اور ایرانی قوم کے جائز مطالبات تسلیم کرنے چاہییں۔
قالیباف نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ رہبرِ انقلاب کی قیادت میں متحد رہیں اور زیادہ سے زیادہ سماجی ہم آہنگی برقرار رکھیں۔
