مسٹر گاندھی اور محترمہ گاندھی سمیت کانگریس کے کئی دیگر رہنما انڈیا گیٹ پر دھرنا دے رہے بھنڈاری جوڑے کے ساتھ بیٹھ گئے اور ان سے کافی دیر تک بات چیت کی۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے مسٹر گاندھی اور محترمہ گاندھی کی انکیتا کے والدین سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے کہا کہ انکیتا کے خاندان کا مطالبہ پوری طرح جائز ہے اور صدر دروپدی مرمو کو مسٹر گوتم کی گورنر کے طور پر تقرری منسوخ کرنی چاہیے۔
مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ انکیتا کا خاندان انصاف کی فریاد کر رہا ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس شخص کو گورنر کا عہدہ دے کر انعام دے رہی ہے، جس پر اس معاملے میں الزامات لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو سمجھنا چاہیے کہ ملک کی خواتین یہ سب دیکھ رہی ہیں اور حکومت کے اس طرح کے رویے کو ملک کی خواتین نہیں بھولیں گی۔
کانگریس نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ انکیتا کا خاندان انصاف کے لیے فریاد کر رہا ہے، جبکہ بی جے پی اس شخص کو گورنر کا عہدہ دے کر انعام دے رہی ہے، جس پر اس معاملے میں الزامات لگے ہیں۔ پارٹی نے مسٹر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کی خواتین یہ سب دیکھ رہی ہیں اور اسے نہیں بھولیں گی۔ پارٹی نے کہا کہ 2022 میں انکیتا بھنڈاری کا قتل کر دیا گیا تھا۔ پارٹی کے مطابق، اس معاملے میں بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور اتراکھنڈ کے انچارج رہ چکے مسٹر گوتم پر الزامات لگے تھے۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ مسٹر گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کرکے انعام دیا گیا ہے۔
پارٹی نے یہ الزام بھی لگایا کہ انکیتا کو انصاف دلانے کے بجائے بی جے پی حکومت متاثرہ خاندان کی آواز دبانے پر تلی ہوئی ہے اور مسٹر گوتم کو بچا رہی ہے۔
اس دوران انکیتا کے والد وریندر سنگھ بھنڈاری نے صدر سے اپیل کی ہے کہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی تحقیقات مکمل ہونے تک مسٹر گوتم کو گورنر مقرر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی جے پی مسٹر گوتم کے معاملے میں سی بی آئی کی تحقیقات سے انہیں بچانے کی کوشش کیوں کر رہی ہے۔
