Masarrat
Masarrat Urdu

انکِتا کے والدین کو تحویل میں لینے پر کھرگے-راہل نے سخت مخالفت کی

Thumb

نئی دہلی، 15 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے انکتا بھنڈاری کے والدین کو یہاں انڈیا گیٹ سے تحویل میں لیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے انہیں انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسٹر کھرگے نے کہا "وزیراعظم نریندر مودی نے صبح چار بجے پولیس بھیج کر انکتا کے والدین کو گرفتار کروا دیا۔ 'وی آئی پی' دشینت گوتم کو بچانے کے لیے وزیراعظم نے حد پار کر دی ہے۔ انصاف کی التجا کررہے انکتا کے والدین کو تحویل میں لیا جا رہا ہے، جبکہ بی جے پی کے 'وی آئی پی' کو گورنر بنایا جا رہا ہے۔"

انہوں نے اسے اقتدار کے جبر اور سوالوں سے بھاگنے کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بیٹی کو کھو چکے والدین کے ساتھ ایسا سلوک شرمناک اور قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی انکتا کو انصاف دلانے کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی۔

مسٹر گاندھی نے کہا کہ چار سال سے انکتا کے خاندان کو انصاف نہیں ملا لیکن ایک 'وی آئی پی' ملزم کو تحفظ اور آئینی عہدے کا انعام ضرور ملا۔ انہوں نے بی جے پی پر خاتون دشمن ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انکتا کے والدین اپنی بیٹی کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے گھر سے میلوں دور انڈیا گیٹ پر بیٹھنے پر مجبور ہوئے ہیں لیکن وہاں سے انہیں صبح چار بجے ہٹا دیا گیا ہے۔

دریں اثنا، پارٹی نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا پیج 'ایکس' پر لکھا کہ انکتا کے والدین انڈیا گیٹ پر پرامن مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بیٹی کے لیے انصاف مانگ رہے تھے لیکن انہیں رات کے اندھیرے میں تحویل میں لے لیا گیا۔ پارٹی نے اس کے لیے وزیر داخلہ امِت شاہ کی پولیس کو ذمہ دار ٹھہرایا اور مسٹر مودی نیز مسٹر شاہ سے سوال کیا کہ کیا اپنی بیٹی کے قتل کے معاملے میں انصاف مانگنا جرم ہے اور بزرگ والدین کو آدھی رات میں تحویل میں لینے کی ضرورت کیوں پڑی؟

پارٹی نے یہ بھی سوال کیا کہ دُشینت گوتم بی جے پی کے لیے اتنے اہم کیوں ہیں کہ انہیں بچانے کے لیے غمزدہ والدین کو ذلیل کیا جا رہا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ انکتا کو انصاف ملنا چاہیے، ان کے والدین کو جواب ملنا چاہیے اور ہندوستان کی حکومت کو بیٹیوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، نہ کہ ان کے خلاف۔

 

Ads