سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اتوار کو یمن کے حوثیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
سعودی فوجی اتحاد نے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کا ذمہ دار حوثی ملیشیا کو ٹھہرایا اور اسے ایک ’مکمل جنگی جرم‘ قرار دیا ہے، جسے ایک سفارتی ذریعے نے میزائل حملہ بتایا۔
یہ حملہ مملکت پر حوثیوں کے حملوں کی ایک بے مثال لہر کے دوران ہوا ہے جو جولائی میں یمن کی ریاض نواز حکومت کے ساتھ تنظیم کی طویل جنگ میں جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد شروع ہوئی ہے۔
بڑھتے ہوئے اس تشدد نے بڑی کشیدگی کا امکان پیدا کر دیا ہے، کیوں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے۔
سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حملے میں جان سے جانے والوں میں چار سعودی شہریوں کے علاوہ دو بنگلہ دیشی، ایک امریکی، ایک مصری، ایک اردنی، ایک شامی، ایک فلسطینی اور ایک سوڈانی شہری شامل ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 309 زخمیوں میں سے کچھ کی حالت تشویش ناک ہے۔
حملے کے بعد ہوائی اڈے پر سرگرمیاں معطل کر دی گئیں اور حکام نے بتایا کہ نقصان کا تخمینہ لگانے کا کام جاری ہے۔
ایک طبی ذریعے نے بتایا کہ حملے کے بعد ’سنگین ہنگامی صورت حال‘ سے نمٹنے کے لیے محکمہ صحت کے حکام نے غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے بڑی تعداد میں ڈاکٹروں کو طلب کر لیا۔
دو ڈاکٹروں نے اے ایف پی کو بتایا کہ مکہ جانے والے کئی زائرین بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔
