Masarrat
Masarrat Urdu

گواسکر نے ہندوستان کی گیندبازی کی منصوبہ بندی پر سوال اٹھائے

Thumb

رانچی، 10 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) عظیم بلے باز سنیل گواسکر نے ہندوستان کی گیندبازی یونٹ کی سخت تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا گیندبازی کوچ کی حکمت عملی کو میدان پر صحیح طور پر نافذ کیا گیا۔ ہندوستان رانچی میں دوسرے ٹی-20 بین الاقوامی میچ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پانچ وکٹ پر 249 رن کا بڑا اسکور بنانے کے باوجود اس کا دفاع نہیں کر سکا۔

سنجو سیمسن کی شاندار 82 رن کی اننگز کی بدولت ہندوستان نے مضبوط اسکور بنایا تھا۔ تاہم ویسٹ انڈیز نے شاندار جوابی حملہ کرتے ہوئے صرف 18.3 اوور میں 250 رن کا ہدف حاصل کرلیا اور سات وکٹ سے کامیابی حاصل کی۔ میچ میں مجموعی طور پر 501 رن بنے۔

گواسکر نے کہا کہ تقریباً 250 رن بنانے کے بعد ہندوستانی بلے بازوں کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور توجہ گیندبازوں اور ٹیم کی تیاری پر ہونی چاہیے۔ سابق ہندوستانی کپتان نے گیندبازی کی ناکامی کے لیے اوس کو آسان بہانہ ماننے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ توجہ گیندبازی کوچ کی حکمت عملی اور اس بات پر ہونی چاہیے کہ گیندبازوں نے اسے منصوبے کے مطابق نافذ کیا یا نہیں۔

سابق ہندوستانی تیز گیندباز ورون آرون نے بھی کپتانی کے فیصلوں پر سوال اٹھائے، خاص طور پر ہندوستان کو دو ابتدائی وکٹ ملنے کے بعد چوتھے اوور میں اکشر پٹیل کو گیند سونپنے پر۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کو اتنی جلدی اسپن کا سہارا لینے کے بجائے اپنے تیز گیندبازی حملے کو جاری رکھنا چاہیے تھا۔

ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کی کمزوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ شائی ہوپ نے 45 گیندوں پر سنچری بنائی، جبکہ شیرفین ردرفورڈ نے طوفانی 84 رن کی اننگز کھیلی۔ دونوں کی شاندار بلے بازی نے مہمان ٹیم کو ہدف تک پہنچایا اور بڑے اسکور کا دفاع کرنے میں ہندوستانی گیندبازی کی کمزوری کو نمایاں کردیا۔

اس شکست کے بعد ہندوستان کی گیندبازی کے نظم و ضبط، حکمت عملی سے متعلق فیصلوں اور دباؤ میں بڑے اسکور کا دفاع کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھ گئے ہیں۔ تقریباً 250 رن بنانے کے باوجود گیندبازی میں اچانک آئی گراوٹ نے ٹیم کی منصوبہ بندی اور اس کے میدان پر نفاذ کو بھی کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔

 

 

Ads