کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے کی جانب سے منعقد اس ظہرانے میں کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، کانگریس جنرل سکریٹری کے۔ سی۔ وینوگوپال، ترنمول کانگریس کے ڈیرک او برائن اور راشٹریہ جنتا دل کے منوج جھا سمیت انڈیا اتحاد کے کئی دیگر ارکان پارلیمنٹ شامل ہوئے۔ کھانے کے بعد تمام رہنما وہیں سے جنتر منتر پر احتجاج کے لیے روانہ ہو گئے۔
اس سے پہلے مسٹر کھڑگے نے کہا تھا کہ آج جنتر منتر پر انڈیا اتحاد کے تمام ساتھی گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کریں گے۔ وہاں دھرنا دیا جائے گا اور جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، اس طرح کے دھرنے اور احتجاج جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’عوام کی بات پورے ملک تک پہنچانا ہمارا کام ہے۔ عوام کو بتایا جائے گا کہ ان کا حق چھینا جا رہا ہے۔ اس حق کی حفاظت کے لیے ہم کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں، لڑتے رہیں گے اور آگے بڑھتے رہیں گے۔ الیکشن کمیشن جو کچھ بھی کر رہا ہے، اس کے پیچھے نریندر مودی ہیں۔ یعنی مودی جی خود جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم تمام جماعتوں کے لوگ مل کر ملک کے عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کا حق چھینا جا رہا ہے۔ عوام کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہمارے خلاف کتنے بھی مقدمے درج کر دیے جائیں، ہم ڈرنے اور رکنے والے نہیں ہیں۔‘‘
مسٹر گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ منگل کو تینوں انتخابی کمشنروں سے ملنا چاہتے تھے، لیکن انہیں ملنے نہیں دیا گیا اور دہلی پولیس نے انہیں روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ کھانے کے بعد تمام ارکان پارلیمنٹ جنتر منتر جا کر دھرنا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان دھرنوں اور احتجاج کے ذریعے ملک کو بتایا جائے گا کہ گیانیش کمار ملک کے قانونی چیف الیکشن کمشنر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بتایا جائے گا کہ گیانیش کمار ان کے لیے اور ہمارے لیے قانونی چیف الیکشن کمشنر نہیں ہیں۔ گیانیش کمار کو استعفیٰ تو دینا ہی ہوگا۔ جن لوگوں نے عوام کے ووٹ دینے کے حق کو چھینا ہے، وہ ملک دشمن ہیں۔
ایف آئی آر درج ہونے سے متعلق سوال پر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، ’’اب تک میرے خلاف 45 ایف آئی آر درج ہیں۔ میرا ہدف 100 کا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے خلاف 100 ایف آئی آر ہوں۔ میرے لیے ہر ایف آئی آر ایک تمغے کی طرح ہے۔‘‘
کانگریس جنرل سکریٹری کے۔ سی۔ وینوگوپال نے کہا کہ مسٹر گاندھی کے خلاف ہزاروں ایف آئی آر درج کی جائیں، انہیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے بلکہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ ملک کی جمہوریت کی حفاظت کے لیے لڑ رہے ہیں۔
ترنمول کانگریس کے ڈیرک او برائن نے کہا کہ اپوزیشن کے انڈیا اتحاد کے تمام رہنما متحد ہیں اور بغیر کسی رنجش کے ایک ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ دیپیندر ہڈا نے بھی کہا کہ وہ ایف آئی آر سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور جمہوریت اور آئین کو بچانے کی ان کی لڑائی جاری رہے گی۔
سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے کہا کہ جب بھی اپوزیشن جماعتیں آئینی طریقے سے پُرامن احتجاج کرتی ہیں، خواہ وہ ارکان پارلیمنٹ ہوں، ارکان اسمبلی ہوں یا عام لوگ، انہیں حراست میں لے لیا جاتا ہے۔
