Masarrat
Masarrat Urdu

امریکی حملوں سے ایران میں 111 پیٹروکیمیکل اور طبی تنصیبات متاثر

Thumb

تہران، 7 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) دی ہیگ میں ایران کے نمائندے نے کہا ہے کہ ایران کی کیمیکل صنعت کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کے نتیجے میں 111 پیٹروکیمیکل اور دوا سازی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔

دی ہیگ میں ایرانی مشن نے کیمیکل ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کی ایگزیکٹو کونسل کے 113ویں اجلاس میں ہادی فرج وند کی تقریر کے کچھ حصے جاری کیے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی حملوں کے دوران ایران میں 60 پیٹروکیمیکل کمپلیکس، 44 دوا ساز فیکٹریوں اور سات طبی و دواسازی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔

فرج وند نے ان حملوں کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی کیمیکل اور دوا سازی کی صنعتوں کو پہنچنے والے نقصان سے سپلائی چین متاثر ہوئی ہے اور کیمیکل ہتھیاروں کے کنونشن کے تحت ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا عمل بھی متاثر ہوا ہے۔

کیمیکل ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم میں ایران کے مستقل نمائندے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسلح تنازعات کے دوران کیمیکل تنصیبات کا تحفظ ضروری ہے تاکہ کیمیکل ہتھیاروں کے کنونشن کی سالمیت، کیمیکل شعبے میں پُرامن سرگرمیوں اور بین الاقوامی تعاون کو برقرار رکھا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان تنصیبات پر امریکی حملوں نے کیمیکل ہتھیاروں کے کنونشن کی شقوں 1، 6 اور 11 کے ساتھ ساتھ اس بین الاقوامی معاہدے کے مقاصد اور اصولوں کے حوالے سے بھی سنگین خدشات پیدا کیے ہیں۔

کنونشن کے متن کے مطابق شق 1 رکن ممالک کی جانب سے کیمیکل ہتھیاروں پر پابندی سے متعلق عمومی ذمہ داریوں سے، شق 6 ممنوع نہ ہونے والی کیمیائی سرگرمیوں سے، جبکہ شق 11 پُرامن کیمیائی سرگرمیوں کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون اور اقتصادی و تکنیکی ترقی سے متعلق ہے۔

اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں فرج وند نے کیمیکل ہتھیاروں کے کنونشن کی پاسداری کے حوالے سے امریکہ سے متعلق ایران کے خدشات ایک بار پھر اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خدشات اسرائیلی حکومت کے کیمیکل ہتھیاروں کے پروگرام میں واشنگٹن کے کردار اور غیر مہلک و ناکارہ بنانے والے کیمیائی ہتھیاروں کے شعبے میں امریکی پروگرام سے متعلق ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس سلسلے میں اٹھائے گئے خدشات کا نہ تو کوئی جواب دیا گیا ہے اور نہ ہی انہیں حل کیا گیا ہے۔

Ads