Masarrat
Masarrat Urdu

ای-20 بنا 420، حکومت عوام کی گاڑیوں سے پٹرول چوری کر رہی ہے: راہل

Thumb

نئی دہلی، 7 نومبر (مسرت ڈاٹ کام) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش کو لے کر مرکزی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ عوام مہنگے پٹرول کی قیمت ادا کر رہے ہیں، لیکن ان کی گاڑیوں کی ٹنکی میں مقررہ حد سے زیادہ ایتھنول ڈالا جا رہا ہے۔

مسٹر گاندھی نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مودی حکومت پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول کی آمیزش کی بات کرتی ہے، لیکن کرناٹک حکومت نے 7 اضلاع سے پٹرول کے نمونے لے کر ایک تسلیم شدہ تجربہ گاہ میں ان کی جانچ کرائی تو 14 میں سے 11 نمونوں میں ایتھنول کی مقدار 20 فیصد سے زیادہ پائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جانچ میں انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی ایل) کے نمونے میں ایتھنول کی مقدار 31.2 فیصد اور ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ پی سی ایل) کے نمونے میں 30.5 فیصد پائی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئی او سی ایل، ایچ پی سی ایل، بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل)، نیارا اور شیل سمیت سرکاری اور نجی کمپنیوں کے نمونوں میں ایتھنول کی آمیزش مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی۔

کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ کمپنیوں کی اپنی تجربہ گاہوں کی رپورٹ میں ایتھنول کی مقدار کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے گاڑی چلانے والوں کو مہنگے پٹرول کی قیمت ادا کرنے کے باوجود ان کی گاڑیوں کی ٹنکی میں زیادہ ایتھنول ڈالا جا رہا ہے، جس سے گاڑیوں کی ایوریج متاثر ہو سکتی ہے اور انہیں بار بار مرمت کرانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پٹرول پمپوں پر یہ بھی واضح نہیں کیا جاتا کہ ٹنکی میں کیا ڈالا جا رہا ہے اور صارفین کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔

مسٹر گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ ملک کی گاڑیوں کی ٹنکی میں حقیقت میں کیا بھرا جا رہا ہے اور پٹرول میں اصل میں کتنا ایتھنول ہے۔ انہوں نے 20 فیصد سے زیادہ ایتھنول ملانے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو دی گئی کھلے مباحثے کی ان کی دعوت اب بھی برقرار ہے اور اس معاملے کو بھی بحث میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کی پالیسیوں سے حقیقت میں کس کو فائدہ ہو رہا ہے۔

 

Ads