Masarrat
Masarrat Urdu

انتخابی کمیشن کی مبینہ سازش کے ہر روز نئے انکشافات ہو رہے ہیں: کانگریس

Thumb

نئی دہلی، 7 نومبر (مسرت ڈاٹ کام) کانگریس نے انتخابی کمیشن پر ’ووٹ چوری‘ کے ذریعے ملک کے جمہوری نظام اور انتخابی عمل کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کے مشتبہ کردار اور اس کے کام کاج سے متعلق ہر روز نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض انتظامی نااہلی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں بدعنوانی اور سازش کے سنگین پہلو بھی نظر آ رہے ہیں۔

کانگریس نے کہا کہ وہ ملک بھر میں ’ووٹ چوری‘ کے خلاف مہم چلا رہی ہے اور عوام کے سامنے انتخابی عمل سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کو اجاگر کر رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق، اس مہم کا مقصد انتخابی نظام کی شفافیت، غیر جانب داری اور جمہوری اداروں کی ساکھ سے متعلق سوالات کو عوامی بحث کا حصہ بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے مبینہ طور پر حد بندی بل کو آگے بڑھانے کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقوں کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے ایک روزنامہ اخبار میں شائع ہونے والی اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش ان اہم سیاسی اور جمہوری مسائل پر تفصیل سے بات چیت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور جمہوری اداروں کی جواب دہی جیسے معاملات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

پارٹی کے محکمہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں انتخابی کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی کارکردگی اور اس کے کردار سے متعلق ہر روز نئے انکشافات ہو رہے ہیں اور اس کا پردہ فاش ہوتا جا رہا ہے۔

جے رام رمیش نے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ انتخابی کمیشن کے معاملات محض نااہلی کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ ان میں بدعنوانی اور سازش کا ایک خطرناک امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انتخابی کمیشن کے کام کاج سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا واضح جواب دیا جائے۔

کانگریس نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ کے حق، انتخابی شفافیت اور جمہوری اداروں کی آزادی کا تحفظ ملک کے جمہوری نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پارٹی کے مطابق، انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی مبینہ بے ضابطگی پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے اور متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریوں کے تئیں جواب دہ ہونا چاہیے۔

Ads