Masarrat
Masarrat Urdu

اسرائیلی انتخابات میں لیکوڈ کو برتری، نیتن یاہو نے کامیابیوں اور مستقبل کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا

  • 28 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

یروشلم، 28 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ملک کی طویل مدتی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دائیں بازو کی حکومت تشکیل دینا ضروری ہے اور ایسی عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد پر انحصار نہیں کیا جاسکتا جو ’’ہمارے وجود کے خلاف ہیں‘‘۔

انہوں نے یہ بات منگل کو مغربی یروشلم میں اپنی جماعت لیکوڈ کے صدر دفتر میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس وقت اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ ختم ہوچکی تھی اور ابتدائی نتائج سامنے آ رہے تھے۔

80 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی گنتی کے بعد دی ٹائمز آف اسرائیل کے اندازوں کے مطابق، نیتن یاہو کے اتحاد کو 54 نشستیں اور گادی آئزن کوٹ کی قیادت والے اتحاد کو 49 نشستیں ملنے کا امکان تھا۔ دونوں میں سے کسی کے لیے بھی حکومت سازی کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا تھا۔

نیتن یاہو نے کہا کہ انتخابی نتائج کی ’’حقیقی تصویر‘‘ سامنے آنے میں ابھی ایک یا دو دن لگ سکتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ لیکوڈ کو اسرائیل کی سب سے بڑی جماعت بننے کی توقع ہے۔

اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل 12 اور 13 کے اندازوں کے مطابق، لیکوڈ کو 27 نشستیں مل سکتی ہیں، جبکہ آئزن کوٹ کی یاشار پارٹی کو 21 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ اس طرح پارلیمنٹ میں لیکوڈ دیگر تمام جماعتوں کے مقابلے میں آگے ہے۔

نیتن یاہو نے 2022 میں اپنی موجودہ مدتِ حکومت شروع ہونے کے بعد سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے ایسے اقدامات کیے ہیں جنہیں وہ آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’ہم نے ایسے حیرت انگیز کام کیے جنہوں نے مشرق وسطیٰ کی شکل بدل دی۔ ہم نے [محمد] الضیف، [اسماعیل] ہنیہ، [یحییٰ] سنوار، [حسن] نصراللہ اور [ایران کے سپریم لیڈر علی] خامنہ ای کو ختم کردیا۔‘‘

نیتن یاہو نے مزید کہا، ’’ہم نے غزہ، لبنان اور شام کے اندر گہرائی تک حفاظتی علاقے قائم کیے۔ ہم نے اپنے اوپر منڈلاتے فوری وجودی خطرے اور تباہی کے اندیشے کو دور کیا۔ ہم نے ایرانی حکومت پر حملہ کیا اور اسے تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا۔ ایران پہلے سے کہیں زیادہ کمزور اور اسرائیل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر اسرائیل کے پاس ’’ایران کے وجودی خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا تاریخی موقع‘‘ ہے۔

نیویارک میں اسرائیل کے قونصل جنرل رہ چکے سابق اسرائیلی سفیر ایلون پنکاس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کے لیے کسی مشکل اور غیر آرام دہ اتحاد کا سہارا لینا پڑسکتا ہے۔تاہم، ان کے مطابق حزب اختلاف کے ووٹر نہیں چاہیں گے کہ ان کا اتحاد نیتن یاہو کے اتحاد کے ساتھ سمجھوتہ کرے۔

الجزیرہ کے سینئر سیاسی تجزیہ کار مروان بشارہ کے مطابق، نیتن یاہو نے یروشلم میں اپنی تقریر کے دوران اپنی جماعت کے انتخابی امکانات کے بارے میں پراعتماد تاثر دینے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا، ’’واضح ہے کہ وہ ایسی کامیابی کا تاثر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے وہ مستحق نہیں ہیں۔ پہلی بات یہ کہ وہ حکومت بنانے کے لیے اتحاد تشکیل نہیں دے سکتے، اور دوسری یہ کہ اسرائیل کی سب سے بڑی جماعت ہونے کا دعویٰ اس حقیقت کو چھپاتا ہے کہ 2009 کے بعد لیکوڈ کی نشستوں کی تعداد اس سطح پر کبھی اتنی کم نہیں رہی۔‘‘

سیاسی تجزیہ کار ڈین پیری نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایگزٹ پولز سامنے آنے کے بعد نیتن یاہو نے اپنی تقریر کے ذریعے صورت حال کو اپنے حق میں پیش کرنے کی پوری کوشش کی۔

 

Ads