Masarrat
Masarrat Urdu

ایران کے خلاف جنگ کے بعد تہران کو آبنائے ہرمز پر ویٹو کا اختیار حاصل ہوگیا، اوباما

  • 25 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

واشنگٹن، 25 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایران کے خلاف جنگ کو امریکی مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں امریکی اڈوں اور اتحادیوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے اور میزائلوں کے ذخائر میں کمی آئی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما نے ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں ایران کو آبنائے ہرمز پر اب ویٹو جیسا اختیار حاصل ہوگیا ہے۔

اوباما نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات ماہ قبل فتح کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اس کے بعد اب صورتِ حال کیا ہے؟ امریکہ کے اتحادیوں اور فوجی اڈوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، متعدد امریکی ہلاک ہوئے اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ جنگ کے باعث امریکی میزائلوں کے ذخائر بھی کم ہوگئے ہیں۔

سابق امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسی کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ تیل، ڈیزل، پٹرول اور تقریباً ہر چیز کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں، بلکہ اس کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف جنگ ہے۔

اوباما نے ایران کے جوہری پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے اور امریکہ نے ایک بھی میزائل چلائے بغیر جوہری معاہدے پر عمل درآمد کیا تھا۔ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی یہ معاہدہ ممکن ہوا تھا۔

سابق امریکی صدر نے امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسٹھ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں غیر سنجیدہ شخصیت قرار دیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ وزیرِ جنگ صبح کے وقت کتنا وقت آئینے کے سامنے خود کو دیکھنے میں گزارتے ہیں۔

اوباما نے مزید کہا کہ ہیگسٹھ اپنے بالوں پر خاص توجہ دیتے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں جنگجوؤں کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔ یہ لوگ سنجیدہ نہیں ہیں اور مسئلہ یہ ہے کہ بالآخر ان کی غیر سنجیدگی کی قیمت دوسروں کو چکانا پڑتی ہے۔

 

Ads