یہ پیش رفت ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی عرضی مسترد کیے جانے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔ اس عرضی میں انہوں نے پولیس کے اس نوٹس کو چیلنج کیا تھا، جس میں انہیں ضمانت دار کے ساتھ 10 ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ جمع کرانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر نیہا بورا کی ٹیم کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، طلبہ رہنما نے واضح کیا کہ وہ امن بانڈ پر دستخط نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہاکہ ’’ایک طرف آئین ہمیں احتجاج کرنے کے حق سمیت کئی بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے، جب کہ دوسری طرف امن بانڈ ہے۔ جس انداز میں اس کا استعمال کیا جا رہا ہے، اس پر دستخط کرنا ہمارے بنیادی حقوق کے خلاف ہوگا۔‘‘
انہوں نے الزام لگایا کہ بظاہر امن بانڈ ایک معمول کی کارروائی دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اس کے ذریعے مظاہرین سے یہ یقین دہانی طلب کی جاتی ہے کہ وہ امن و امان میں خلل پیدا نہیں کریں گے۔
طلبہ رہنما نے یہ الزام بھی لگایا کہ جب انہیں ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے پہنچنا تھا، اس وقت مندر مارگ پولیس اسٹیشن کے باہر انہیں خوف زدہ کرنے اور دھمکانے کے ارادے سے غنڈہ گردی کی گئی۔
