تہران، 25 اکتوبر(مسرت ڈاٹ کام) ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایران کی قومی سلامتی اور مفادات کے خلاف کسی بھی اقدام کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں مقبوضہ علاقوں کو ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں غیر آباد کیا جاسکتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پر عبرانی زبان میں ایک پیغام جاری کرتے ہوئے اسرائیل کو متنبہ کیا کہ ایران کی قومی سلامتی اور قومی مفادات کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کے ممکنہ نتائج کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
ابراہیم عزیزی نے اپنے پیغام میں لکھا، ’’جان لو کہ ہماری قومی سلامتی اور مفادات کے خلاف کسی بھی اقدام کی صورت میں مقبوضہ علاقوں کو غیر آباد کرنے میں ایک گھنٹے سے زیادہ دیر نہیں لگے گی۔‘‘ ان کے اس بیان کو اسرائیل کے لیے ایک سخت انتباہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے جوابی کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق، ابراہیم عزیزی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک تصویر بھی جاری کی ہے، جس میں اسرائیل کے بنیادی ڈھانچے کے مختلف حصوں کو نشان زد کیا گیا ہے۔ اس تصویر کے ذریعے انہوں نے ان مقامات اور تنصیبات کی اہمیت کی جانب اشارہ کیا ہے جو کسی بھی ممکنہ تنازع کے دوران تزویراتی اہمیت کے حامل ہوسکتے ہیں۔ تاہم، تصویر میں نشان زد مقامات کی تفصیلات اور ان کے متعلق کسی ممکنہ کارروائی کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سلامتی کی صورت حال اور ایران و اسرائیل کے درمیان کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اور ایک دوسرے کے خلاف دی جانے والی دھمکیوں نے خطے میں ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کو نمایاں کیا ہے۔
ایران کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات کا بنیادی مقصد مخالف فریق کو یہ پیغام دینا ہے کہ ایران کی سلامتی یا مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج دور رس ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب، اسرائیل کے بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ کارروائی کے تناظر میں پیش کرنے والے ایسے بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
تاہم، ابراہیم عزیزی کا یہ بیان ان کا دعویٰ اور انتباہ ہے۔ اس میں بیان کردہ وقت اور ممکنہ نتائج کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے اسے کسی طے شدہ فوجی کارروائی یا اس کے یقینی نتیجے کے بجائے ایران کی جانب سے جاری کردہ سیاسی اور سلامتی سے متعلق انتباہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
