Masarrat
Masarrat Urdu

کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں؟

  • 23 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

ویانا،23 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔

اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔

ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔

یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔

الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟

اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔

اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔

11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔

آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔

امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔

فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔

اسپارٹا کموڈیٹیز کے سینئر خام تیل تجزیہ کار آرون کلڈو نے الجزیرہ کو بتایا کہ چین اور ایران کو چھوڑ کر دنیا کے اسٹریٹجک ذخائر میں دسمبر 2025 کے اختتام سے اب تک تقریباً 32 کروڑ 70 لاکھ بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کمی کا تقریباً 95 فیصد امریکہ، یورپ اور جاپان میں ہوا۔ان کے اندازے کے مطابق، اب دنیا بھر میں تقریباً 40 کروڑ بیرل قابل استعمال ذخائر باقی ہیں۔ اس میں چین کے ذخائر شامل نہیں، کیونکہ امکان کم ہے کہ وہ انہیں برآمد کرے گا۔ خلیجی ممالک کے ذخائر بھی اس حساب میں شامل نہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز مکمل بند ہونے کی صورت میں ان تک رسائی متاثر ہوسکتی ہے۔

ان دستیاب ذخائر کا تقریباً نصف جاپان میں ہے۔

کلڈو کے مطابق، یورپ کے پاس تقریباً 7 کروڑ 60 لاکھ بیرل ایسا تیل موجود ہے جس کے استعمال یا اجرا کا ابھی وعدہ نہیں کیا گیا، تاہم جرمنی جیسے بعض ممالک مقامی ہنگامی صورت حال کے لیے اپنے ذخائر کا کچھ حصہ محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’یورپ اصل غیر یقینی عنصر ہے، کیونکہ یہ واضح نہیں کہ وہ کب اور کس حد تک اپنے ذخائر جاری کرنے پر آمادہ ہوگا۔‘‘

دوسری جانب، تجزیاتی ادارے کیلپر کے سینئر خام تیل تجزیہ کار میو شو کے مطابق، چین کے پاس خشکی پر موجود خام تیل کے ذخائر ایک ارب 13 کروڑ بیرل ہیں۔ فروری کے اواخر میں یہ مقدار ایک ارب 23 کروڑ بیرل تھی۔ اس کے باوجود چین کے پاس اتنا تیل ہے جو اس کی ریفائنریوں کی تقریباً 80 دن کی ضرورت پوری کرسکتا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ہندوستان کے ذخائر اس کی تیل درآمدات کی صرف آٹھ دن کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔

آبنائے ہرمز اور باب المندب کی مکمل بندش کے کیا نتائج ہوں گے؟

جنگ سے پہلے دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً پانچویں حصے کی رسد، یعنی روزانہ لگ بھگ دو کروڑ بیرل تیل، آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔

سعودی عرب نے مشرق میں واقع اپنے تیل کے کنوؤں سے مغرب میں بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع تک خام تیل پہنچانے کے لیے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کا استعمال بڑھا دیا ہے، جس سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت کم ہوتی ہے۔

تاہم، اس پائپ لائن کو بھی حملوں کا سامنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ینبع سے جنوب کی جانب جانے والے تیل بردار جہازوں کو باب المندب سے گزرنا پڑتا ہے، جہاں ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے جولائی میں سعودی جہاز رانی کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔

شو کے مطابق، رواں ماہ اب تک باب المندب سے سعودی خام تیل کی صرف 3 لاکھ 73 ہزار بیرل یومیہ کی مصدقہ ترسیل ہوئی ہے، جو فروری کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ اب ینبع سے روانہ ہونے والے زیادہ تر تیل بردار جہاز مصر کے راستے شمال کی جانب جا رہے ہیں۔

انہوں نے اندازہ لگایا کہ اگر آبنائے ہرمز بند ہوجائے اور حوثی تمام سعودی تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دیں تو خلیجی ممالک صرف چند پائپ لائنوں اور ینبع سے شمال کی جانب جانے والے راستے کے ذریعے تیل برآمد کرسکیں گے۔اس صورت میں مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات موجودہ 1 کروڑ 68 لاکھ بیرل یومیہ کے مقابلے میں گھٹ کر تقریباً 75 لاکھ بیرل یومیہ رہ جائیں گی۔ یوں روزانہ تقریباً 93 لاکھ بیرل تیل کی رسد کم ہوسکتی ہے۔

شو نے کہا، ’’اگر تیل کے کنوؤں، ٹرمینلز اور پائپ لائنوں پر بھی حملے ہوئے تو رسد میں خلل مزید شدید اور طویل ہوسکتا ہے۔‘‘

 

 
 

Ads