Masarrat
Masarrat Urdu

عآپ کا دہلی کے سرکاری اسکولوں کی کتابوں کی چھپائی میں 40 فیصد کمیشن خوری کا الزام

Thumb

نئی دہلی، 23 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام)عام آدمی پارٹی (عآپ) نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر سرکاری اسکولوں میں مفت تقسیم کی جانے والی کتابوں کی چھپائی میں بدعنوانی کا الزام لگایا ہے۔

عآپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے جمعہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ کتابوں کی چھپائی کے ٹینڈر میں این سی ای آر ٹی کے معیارات کا ذکر کیا گیا تھا، لیکن مبینہ طور پر ناقص معیار کے کاغذ کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس معاملے میں تقریباً 40 فیصد کمیشن خوری ہوئی ہے اور وزیر تعلیم آشیش سود کو اس کا جواب دینا چاہیے۔

مسٹر بھاردواج نے کہا کہ ریکھا گپتا حکومت کے دور میں ادویات، سائیکلوں، چاول اور دہلی جل بورڈ کے ٹینڈروں کے بعد اب کتابوں کی چھپائی میں بھی مبینہ بدعنوانی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح سرکاری تعلیمی نظام کو مضبوط کرنے کے بجائے نجی اسکولوں کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال بھی نجی اسکولوں کی فیس میں اضافہ کیا گیا تھا اور اس سال بھی فیس بڑھائی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری اسکولوں کا نظام کمزور ہونے سے بچوں کا رجحان نجی اسکولوں کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

عآپ لیڈر نے آٹھویں جماعت کی این سی ای آر ٹی کی کتاب ’ملہار‘ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے پہلی سے آٹھویں جماعت تک کی کتابوں کی چھپائی سے متعلق ٹینڈر کی نقول دیکھی ہیں۔ ان کے مطابق، ٹینڈر میں کاغذ کا سائز اے فور اور اس کا معیار 80 جی ایس ایم مقرر کیا گیا تھا، لیکن حکومت کی جانب سے چھپوائی گئی کتاب میں اس سے کم معیار کا کاغذ استعمال کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بازار سے خریدی گئی این سی ای آر ٹی کی کتاب اور سرکاری اسکولوں میں تقسیم کے لیے چھپوائی گئی کتاب کے معیار میں کافی فرق ہے۔

عآپ کے پردیش صدر نے دعویٰ کیا کہ ایک پرنٹر کے مطابق، کاغذ کے معیار اور سائز کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں کتابوں کی لاگت میں کم از کم 40 فیصد کا فرق ہو سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے کتابوں کی چھپائی میں کمیشن خوری کا الزام لگایا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور وزیر تعلیم آشیش سود سے سوال کیا کہ اگر ٹینڈر میں طے شدہ معیارات پر عمل نہیں کیا گیا تو اس کے لیے ذمہ دار کون ہے اور مبینہ کمیشن کس کو ملا۔

 

Ads