غزہ، 20 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) غزہ کی پٹی میں سرکاری دفترِ اطلاعات نے مالی وسائل کی کمی کے باعث اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے پانچ لاکھ افراد کے لیے غذائی امداد روکنے کے فیصلے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غزہ کی پٹی میں سرکاری دفترِ اطلاعات نے پیر کے روز مالی وسائل کی کمی کے باعث ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے پانچ لاکھ افراد کے لیے غذائی امداد روکنے کے فیصلے کے سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔
دفتر نے زور دے کر کہا کہ اس اقدام کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں قحط اور انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
سرکاری دفترِ اطلاعات نے غزہ کے عوام کو بھوک اور محاصرے کی پالیسی کا ذمہ دار غاصب صیہونی حکومت کو قرار دیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ضروری مالی وسائل فراہم کرنے اور انسانی امداد کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
غزہ کے سرکاری دفترِ اطلاعات نے اقوامِ متحدہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ غاصب صیہونی حکومت پر دباؤ ڈالے، تاکہ گزرگاہیں دوبارہ کھولی جائیں اور غزہ کی پٹی میں امداد کی بلا روک ٹوک آمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
بیان میں عرب اور اسلامی ممالک سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری مالی امداد فراہم کریں اور غزہ کی پٹی تک انسانی امداد پہنچانے کے لیے زمینی اور سمندری امدادی راہداریاں قائم کریں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ بجٹ کی کمی کے باعث اس نے غزہ کی پٹی میں غذائی امداد کی مقدار میں تقریباً ایک تہائی کمی کر دی ہے۔ اس اقدام کے باعث بڑی تعداد میں ضرورت مند خاندانوں کو موسمِ سرما کی آمد سے قبل مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
