Masarrat
Masarrat Urdu

ریس کورس مسجد کے تحفظ کے لیے اے پی سی آر کی لیفٹیننٹ گورنر سے مداخلت کی اپیل

  • 20 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • مذہب
Thumb

نئی دہلی، 20 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر سردار ترنجیت سنگھ سندھو سے رجوع کرتے ہوئے لودھی روڈ کے جے پور پولو گراؤنڈ میں واقع 150 سال سے زائد قدیم ریس کورس مسجد کو منہدم ہونے سے بچانے کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد ایک نوٹیفائیڈ وقف جائیداد ہے اور دہلی حکومت کی جانب سے اسے گریڈ دوم کے تاریخی ورثے میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ اطلاع پریس کے لیے جاری ایک ریلیز میں دی گئی۔

اے پی سی آر کے نیشنل سکریٹری ندیم خان کی جانب سے لیفٹیننٹ گورنر کو پیش کردہ تحریری عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ مسجد کا اندراج دہلی انتظامیہ کے سرکاری گزٹ میں 8 ستمبر 1977 کو سلسلہ نمبر 18 کے تحت کیا گیا تھا۔ اس اندراج میں مسجد، حجرہ، کنواں اور قبرستان کا ذکر ہے، جو تقریباً دو بیگھہ اراضی پر مشتمل ہیں۔ عرضداشت کے مطابق، دہلی حکومت کے محکمہ شہری ترقیات نے یکم اکتوبر 2026 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بھی اس مقام کو ’’مسجد اور احاطہ‘‘ کے نام سے گریڈ دوم کے تاریخی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

تنظیم نے بتایا کہ 17 اکتوبر کو لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (ایل اینڈ ڈی او)، نئی دہلی ریجن کے ڈپٹی افسر کنال بھاسکر دیگر حکام کے ساتھ مسجد کے احاطے میں پہنچے تھے، جہاں مبینہ طور پر مسجد کو منہدم کرنے کے ارادے سے آگاہ کیا گیا۔ اے پی سی آر کے مطابق، مسجد کو منہدم کرنے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے کبھی غیر قانونی تعمیر یا ناجائز تجاوزات قرار دیا گیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ ایسی صورت حال میں مسجد کو منہدم کرنے کی کوئی بھی کوشش غیر قانونی اور من مانا اقدام ہوگی۔

عرضداشت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسجد اور اس کے اطراف واقع جھگی بستیوں کی قانونی حیثیت کو الگ الگ دیکھا جانا چاہیے۔ اے پی سی آر کا کہنا ہے کہ اگر ان بستیوں کو ہٹانے کی کارروائی زیر غور ہے تو اس کا اطلاق تاریخی مسجد پر نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ مسجد ان بستیوں سے کہیں قدیم ہے اور اسے الگ قانونی حیثیت حاصل ہے۔

تنظیم کے مطابق، جھگی بستیوں کو ہٹانے سے متعلق عدالتی احکامات کی بنیاد پر مسجد کو خالی کرانے یا منہدم کرنے کی کارروائی ان احکامات کے دائرے سے تجاوز ہوگی۔

اے پی سی آر نے لیفٹیننٹ گورنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری ہدایات جاری کرتے ہوئے لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کو ریس کورس مسجد منہدم کرنے سے روکیں اور اس تاریخی عبادت گاہ کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

تنظیم نے کہا کہ مسجد کی نوٹیفائیڈ وقف جائیداد اور گریڈ دوم کے تاریخی ورثے کی حیثیت کا احترام کیا جانا چاہیے اور ملحقہ بستیوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں اس قدیم عبادت گاہ کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔

 

Ads