Masarrat
Masarrat Urdu

ای سی آئی کی ایس آئی آر کے خلاف راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد لیڈروں کی عرضی پر سپریم کورٹ کا نوٹس، درخواست گزار کے رویے پر برہمی کا اظہار

Thumb

نئی دہلی، 15 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کو چیلنج کرنے والی عرضی پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا۔

چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بینچ نے الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو نوٹس جاری کیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے زبانی تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "ہم درخواست گزاروں میں سے ایک سے ان کے رویے کے بارے میں بھی سوال کریں گے۔"

عدالت کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب راہل گاندھی نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ کی طرف مارچ کیا تھا، جس سے عدالت کے احاطے میں کافی بھیڑ اور افراتفری پیدا ہو گئی تھی۔ اگرچہ راہل گاندھی کی طرف سے ابتدائی طور پر خود ذاتی طور پر عرضی جمع کرانے کی توقع تھی، لیکن سپریم کورٹ کی رجسٹری کا وقت ختم ہونے کے قریب ہونے کے باعث اسے وکلاء کے ذریعے دائر کیا گیا۔ بعد میں رہنماؤں نے رجسٹری کا دورہ کیا، جس سے عدالت کے احاطے میں مزید بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔

درخواست گزاروں میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، ترنمول کانگریس کے سوگت رائے، سماجوادی پارٹی کے اکھلیش یادو، آر جے ڈی کے تیجسوی پرساد یادو، شیو سینا (یو بی ٹی) کے سنجے راؤت، سی پی آئی (ایم) کے ایم اے بیبی، سی پی آئی کے ڈی راجا، جے ایم ایم کی مہوا ماجھی، این سی پی (شرد پوار دھڑے) کی سپریا سولے اور آئی یو ایم ایل کے ای ٹی محمد بشیر شامل ہیں۔ وی سی کے کے صدر تھول تھروملاون اور نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ سجاد احمد کچلو بھی بعد میں اس عرضی میں شامل ہو گئے۔

یہ عرضی ایس آئی آر کی عمل کے خلاف اپوزیشن کے احتجاج اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے درمیان سامنے آئی ہے۔

سپریم کورٹ نے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کی جانب سے ایس آئی آر کےعمل کو چیلنج کرنے والی ایک الگ عرضی اور کانگریس رہنما دگوجے سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی ایک اور عرضی پر بھی نوٹس جاری کیا۔

عرضی میں ایس آئی آر کے عمل کا عدالتی جائزہ لینے کی مانگ کی گئی ہے، جس میں الیکشن کمیشن کے 24 جون 2025 کے فیصلے کے ریکارڈ کی پیشی اور آئینی و قانونی دفعات کی تعمیل کی جانچ شامل ہے۔ اس میں 2023 کے ایکٹ کے تحت اجتماعی اور دستاویزی فیصلہ سازی، آن لائن فارم 6 کی اصلاح اور ووٹروں کے نام خارج کیے جانے اور ووٹر لسٹ کے ڈیٹا بیس کا آڈٹ کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دیگر اہم مطالبات میں بوتھ وار خارج کیے گئے ووٹروں کے ناموں اور ان کی وجوہات کی اشاعت، نام خارج کرنے سے پہلے نوٹس اور سماعت، ناموں کو بحال کرنے کا نظام، انتخاب والی ریاستوں میں اندراج کی آخری تاریخ میں توسیع، اور کیس کے زیر التواء رہنے تک ملک بھر میں ایس آئی آر عمل کی معطلی شامل ہے۔

 

Ads