وزیر اعظم نے لیہ میں کشوک بکلا رنپوچھے ہوائی اڈے کے 650 کروڑ روپے کی لاگت سے بنے نئے ٹرمینل کا افتتاح کیا۔ اس سے ہوائی اڈے کی پروازوں کی صلاحیت تین گنا ہو جائے گی اور مسافروں کو سنبھالنے کی سالانہ صلاحیت 10 لاکھ سے بڑھ کر 35 لاکھ ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک کا پہلا ہوائی اڈے کا ٹرمینل ہے، جہاں شمسی توانائی کے ساتھ ساتھ جیو تھرمل توانائی سے گرم رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ مشکل ترین حالات میں بھی یہ سہولیات دستیاب رہیں گی اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ لداخ میں جدید سہولیات تیار کرتے وقت ماحولیات کا پورا خیال رکھا جا رہا ہے۔
مسٹر مودی نے 2,500 کروڑ روپے کی نمو-پدم-درچا سڑک بھی عوام کو وقف کی۔ اس سے سفر کا وقت 12 گھنٹے سے گھٹ کر صرف تین گھنٹے رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سڑک سے لوگوں کا وقت بچے گا اور مقامی تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے ہانو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ اور اس سے جڑے پاور ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو بھی قوم کے نام وقف کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھروسہ مند بجلی سے دیہی علاقوں میں گھروں کو روشن کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کی پڑھائی، صحت کی خدمات اور چھوٹے کاروباروں کو بھی فائدہ ہوگا۔ انہوں نے پُوگا وادی میں بجلی کی پیداوار سے جڑے جدید پروجیکٹس کا بھی ذکر کیا۔
کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرنے کے مقصد سے پروجیکٹ 'امرت ہم سروور' کے تحت بنائے گئے 40 آبی ذخائر بھی عوام کو سونپ دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان آبی ذخائر سے کاشتکاری کے اہم وقت پر کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی مل سکے گا۔
وزیر اعظم نے الزام لگایا کہ پچھلی حکومتوں نے لداخ کی ترقی کو ترجیح نہیں دی لیکن موجودہ مرکزی حکومت کے لیے لداخ کی ترقی بہت بڑی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، "ہمیشہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ لداخ میں فطرت کی وجہ سے زندگی بہت مشکل ہوتی ہے۔ قدرتی ماحول کے اپنے چیلنجز ہوتے ہیں لیکن سال 2019 میں لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بننے کے بعد سے وہاں بنیادی سہولیات کا دائرہ بڑھا ہے۔" انہوں نے بتایا کہ روڈ نیٹ ورک 1,800 کلومیٹر سے بڑھ کر 4,000 کلومیٹر سے زیادہ ہو گیا ہے۔ بڑے پلوں کی تعداد 19 سے بڑھ کر تقریباً 75 اور ہیلی پیڈز کی تعداد 7 سے بڑھ کر 40 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ گھروں میں نل سے پانی کی رسائی 3.5 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 99 فیصد ہو گئی ہے۔ اسپتالوں میں بستروں کی تعداد بھی دوگنی ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زوجیلا سرنگ بننے سے ہر موسم میں قومی رابطہ کاری کی سہولت میسر ہوگی۔
مسٹر مودی نے کہا کہ مرکزی حکومت لداخ کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے۔ خطے میں سرمائی سیاحت اور ایڈونچر ٹورازم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ وائبرنٹ ولیج پروگرام کے تحت 40 سے زائد سرحدی بستیوں کو ترقی دی جا رہی ہے، جس سے دور دراز کے دیہاتوں میں بھی روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ لداخ میں ہوم اسٹے کی تعداد تقریباً 150 سے بڑھ کر 3,000 ہو گئی ہے۔ محفوظ کاشتکاری (پولی ہاؤس وغیرہ) کو فروغ دینے کی کوششوں سے خطے میں 11,000 گرین ہاؤس چالو ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس سال اگست میں لداخ میں ہائی کورٹ کی بنچ قائم کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس سے لوگوں کو انتظامیہ کے ساتھ ساتھ عدالتی نظام تک رسائی حاصل کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نیٹ اور تیز انٹرنیٹ سہولت کا دائرہ دور دراز کے علاقوں تک پھیلایا جا رہا ہے۔ اس سے ای-گورننس، آن لائن تعلیم، ہوٹلوں، ریستوراں، ہوم اسٹے اور مقامی دستکاری سے جڑے کاروبار کو فائدہ ہوگا۔ مقامی صنعت کاروں کو اپنی مصنوعات کے لیے عالمی منڈی تک رسائی حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
انہوں نے لیہ میں 'سینٹر آف ایکسی لینس' کی تعمیر اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) جموں اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) جموں کے سیٹلائٹ کیمپس قائم کرنے کی تجاویز کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے لداخ کے نوجوانوں کو اپنے ہی خطے میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی سیکھنے کے بہتر مواقع مل سکیں گے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ لداخ کے نوجوانوں نے آئس ہاکی، سرمائی کھیلوں اور کوہ پیمائی میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ خطے میں نئی اسپورٹس پالیسی نافذ کی گئی ہے اور کھلاڑیوں کو بہتر تربیت اور سہولیات دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھ سکیں۔
انہوں نے سی-بکتھورن ، دستکاری، جی آئی ٹیگ والے خوبانی کی مصنوعات، بالائی علاقوں میں تجارتی پھولوں کی کھیتی اور چانگپا کمیونٹی کے روایتی پشمینہ کے کاروبار کے امکانات کا ذکر کیا۔ حکومت لداخ کی مصنوعات کی بہتر برانڈنگ اور نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے پر کام کر رہی ہے، تاکہ پروڈیوسروں کو براہ راست فائدہ پہنچے۔
وزیر اعظم نے لیہ میں ملک کے پہلے راک آرٹ کنزرویشن پارک کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد قدیم راک آرٹ اور تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے آنے والی نسلوں کے ساتھ ساتھ ملک اور بیرون ملک سے آنے والے لوگ بھی لداخ کی شاندار تاریخ سے واقف ہو سکیں گے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ قدیم مٹھوں، بدھ روایات اور کشوک بکلا رنپوچھے سے متاثرہ تہواروں سمیت لداخ کے ثقافتی ورثے کو تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ سب کی مشترکہ کوششوں سے لداخ ترقی کی نئی بلندیوں کو چھوئے گا۔
