Masarrat
Masarrat Urdu

ٹرمپ اور نتن یاہو کی اسرائیل اور امریکہ میں انتخابات سے قبل ایران پر حملے کے امکان پر بات چیت

  • 14 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

واشنگٹن، 14 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) ایکسیوس کی متعلقہ ذرائع پر مبنی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ اور نیتن یاہو کی گزشتہ ہفتے ٹیلی فون پر بات ہوئی۔جبکہ وہائٹ ہاوس نے اس کی تردید کی ہے۔

بات چیت میں 27 اکتوبر کو اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات اور 3 نومبر کو امریکہ میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف نئی کارروائی کے امکان پر غور کیا گیا۔

نیتن یاہو نے بات چیت میں اپنی انٹیلی جنس معلومات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے تشویشناک اقدامات کر رہا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی افواج چوکس ہیں۔

یہ ملاقات اس سے پہلے ہوئی جب ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا، مگر بتایا گیا کہ اسرائیل اور امریکی افواج اسی امکان کے پیشِ نظر چوکس ہیں کہ ٹرمپ اپنی رائے بدل سکتا ہے۔

ایک امریکی اہلکار جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا نے کہا: "نیتن یاہو ایک بار پھر قدم اٹھانے کے مؤقف پر لگتے ہیں۔ انہوں نے اس موضوع پر ٹرمپ سے کئی بار بات کی اور ٹرمپ نے کہا، 'تم بہتر جانتے ہو نتن یاہو، اپنی تیاریاں کرو۔' لیکن درحقیقت کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہے۔ 'اپنی تیاریاں کرو' کا مطلب شاید ابھی، شاید بعد میں یا شاید کبھی بھی ہو سکتا ہے۔"

ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے گزشتہ دو ہفتوں میں ایران پر حملوں کے جاری رہنے کے بارے میں کئی بار بات کی اور نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران کے عسکری اور جوہری مراکز کو نشانہ بنانے کا ذکر کیا۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ شروع میں ٹرمپ حملے جاری رکھنے کے لیے رضامند دکھائی دیے، مگر بعد میں انہوں نے اس معاملے میں محتاط رویہ اپنایا، جبکہ ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ ٹرمپ اس بارے میں واضح نہیں ہیں۔

مزید براں، حکام نے کہا کہ نیتن یاہو نے حالیہ دنوں میں اپنے مشیروں کے ساتھ ملاقاتوں میں بتایا کہ یہ امکان ٹرمپ نے اٹھایا تھا کہ ایران پر نئی کارروائی کی جا سکتی ہے اور ایسی صورت میں ٹرمپ نے اسرائیل سے حملوں میں شرکت کی خواہش ظاہر کی۔

ذرائع نے کہا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ ایران پر حملوں کے جاری رہنے کے سب سے بڑے حامیوں میں ہیں، جبکہ دوسری جانب ٹرمپ کے کئی مشیروں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں اقتصادی دباؤ کو جاری رکھنا بہتر ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی چیف آف سٹاف ایئل زامیر نے اپنے امریکی ہم منصب ڈین کین کے ساتھ ایک ملاقات میں تین ہفتوں کے اندر ایران کے خلاف مکمل پیمانے پر حملے شروع کرنے کے امکان پر بات کی، اور زامیر نے کہا کہ چونکہ ایران ممکنہ طور پر جوابی کارروائی کر سکتا ہے، اس دور میں جنگ دوبارہ شروع ہونے سے اسرائیل میں انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں۔

دوسری طرف، وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے ایکسئوس کو بتایا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایران پر حملوں کے جاری رہنے کے موضوع پر بات چیت نہیں کی۔

اہلکار نے کہا، 'ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔'

نیتن یاہو کے دفتر نے اس بارے میں کہا، 'وزیر اعظم صدر ٹرمپ اور امریکی اعلیٰ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور اس معاملے پر ہم کوئی تبصرہ نہیں کرتے۔'

 

Ads