Masarrat
Masarrat Urdu

حوثی حملوں کے بعد ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں توسیع، ٹرمپ امریکی فوجی کارروائی پر غور کرنے لگے

  • 12 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

ریاض، 12 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) سعودی عرب نے حوثی ملیشیا کے تازہ میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم 14 افراد کی ہلاکت اور 300 سے زائد کے زخمی ہونے کے بعد پیر کو اپنے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی معطلی میں توسیع کر دی۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کی حمایت یافتہ یمنی تنظیم کے خلاف سعودی فوجی مہم میں امریکہ کی شمولیت پر غور کر رہے ہیں۔

سعودی حکام کے مطابق، مسلسل حملوں کے بعد ریاض کا کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ حفاظتی جانچ مکمل ہونے تک بند رہے گا۔ ان حملوں میں ہفتے کو 13 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ اتوار کو ہونے والے ایک اور حملے میں ایک شخص کی جان گئی۔ حوثیوں نے دمام کے کنگ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ایندھن کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس سے شہری ہوا بازی اور اہم بنیادی ڈھانچے کی سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی فوجی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے۔ امریکہ کی ممکنہ مداخلت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ’’ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ ہم اس پر غور کریں گے۔‘‘

ریاض میں امریکی سفارت خانے نے بار بار ہونے والے حملوں کے پیش نظر امریکی شہریوں کو سعودی عرب کے بڑے ہوائی اڈوں کا استعمال کرتے وقت ’’انتہائی احتیاط‘‘ برتنے کی ہدایت دی ہے۔

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ریاض میں ایک توانائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مملکت اپنے ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا جواب دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’سعودی لغت میں خوف کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘

ان حملوں سے سعودی عرب پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے حوثیوں کے خلاف لڑائی اور یمنی حکومتی افواج کی حمایت کرتا رہا ہے۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے حملے مغربی یمن میں ان کے زیر کنٹرول علاقوں پر سعودی عرب کی مبینہ ’’وحشیانہ جارحیت‘‘ کے جواب میں کیے گئے۔

علاقائی تنازع کے مزید پھیلنے اور توانائی کی سپلائی میں خلل کے خدشات کے باعث پیر کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ امریکی خام تیل 92 ڈالر فی بیرل سے اوپر تجارت کرتا رہا۔

یمن کے اندر بھی لڑائی تیز ہو گئی ہے، خاص طور پر جنوب مغربی شہر تعز کے اطراف، جو طویل عرصے سے حوثیوں کے محاصرے میں ہے۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دونوں جانب کے 60 سے زائد جنگجو مارے گئے۔

تعز کے گورنر نبیل شمسن نے محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ طبی سامان کی کمی سے ہنگامی آپریشن اور انتہائی نگہداشت کی خدمات متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ حوثیوں نے شہر سے باہر نکلنے کے راستے بند کر رکھے ہیں، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا اندیشہ ہے۔

حوثیوں نے سعودی عرب پر پیر کو ان کے زیر کنٹرول دارالحکومت صنعاء کے دو اضلاع پر فضائی حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کی وزارت صحت کے مطابق، ان حملوں میں ایک شخص ہلاک اور 12 زخمی ہوئے۔

دریں اثنا، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے بات چیت کی اور اس امکان پر تبادلۂ خیال کیا کہ تہران ریاض اور حوثیوں کے درمیان ثالثی میں مدد کر سکتا ہے۔

یہ بحران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم اس آبی گزرگاہ پر واشنگٹن اور تہران کی جانب سے عائد پابندیوں نے سپلائی میں طویل خلل کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بحری آمدورفت کے بحران کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ فروری کے اواخر میں ایران پر دونوں ملکوں کے مشترکہ حملوں سے پہلے آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی۔

بقائی نے کہا، ’’اگر اس صورت حال پر تشویش ظاہر کرنے والی حکومتیں واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں اس فریق سے بازپرس کرنی چاہیے جس نے یہ صورت حال پیدا کی ہے۔‘‘

Ads