جسٹس سوریہ کانت نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی عام شہری یا منتخب باڈی کے رکن کی عرضی کا خیرمقدم کیا جائے گا اور قانون کے تحت مناسب کارروائی کی جائے گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں اتوار کے روز 'انڈیا' اتحاد کے رہنماؤں کی جانب سے ملاقات کی درخواست کرنے والا ایک خط موصول ہوا تھا۔ انہوں نے کل خط کا جواب دیتے ہوئے ملاقات نہ کر پانے کی وجہ بھی واضح کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ امن و قانون سے جڑا ہوا ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے رہنماؤں سے ذاتی طور پر ملاقات کرنے سے معذوری ظاہر کی۔
جسٹس سوریہ کانت نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص یا عوامی نمائندے کو اپنا موقف رکھنے کے لیے اعلیٰ ترین عدالت آنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے آنے والی عرضیوں پر قانون کے مطابق غور کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ تمام شہریوں کے لیے یکساں طور پر دستیاب ہے اور کسی بھی جائز عرضی پر مناسب قانونی عمل کے تحت سماعت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ کسی بھی عام شہری یا منتخب ادارے کے رکن کی عرضی کا خیرمقدم ہے۔ ہر ہندوستانی شہری کو عدالت جانے کا حق ہے اور ہم ان کی بات سنیں گے نیز قانون کے تحت جو بھی مناسب ہوگا، وہ کریں گے۔
