مسٹر گاندھی نے پیر کے روز یہاں کانگریس ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایک خصوصی پریس کانفرنس میں کہا کہ دہلی میں گزشتہ پانچ چھ دنوں سے انصاف کی لڑائی لڑی جا رہی ہے اور ووٹ چوری کے خلاف عوامی تحریک چلائی جا رہی ہے۔ اس تحریک کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور لوگوں کو آنے جانے سے روکا جا رہا ہے۔ چاروں طرف پولیس تعینات کر کے دہلی کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اسی کی مخالفت میں 'انڈیا' اتحاد کے رہنما مارچ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تحریک ملک کی روح پر حملہ کرنے والوں کے خلاف ہے اور اس تحریک کے ذریعے نوجوانوں پر ظلم و ستم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک میں شامل نوجوانوں کو مارا پیٹا جا رہا ہے، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ انصاف ملنے تک تحریک جاری رکھیں اور آئین اور جمہوریت کی حفاظت کے لیے متحد ہو کر سب کی آواز اٹھائیں۔
مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ پولیس نوجوانوں کو پٹواری ہے اور آر ایس ایس کے لوگوں کو کھلے عام گھومنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف کھڑے ہونے اور آئین کے تحفظ کی لڑائی لڑنے والوں کو روکا جا رہا ہے لیکن اپوزیشن پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ووٹ چوری کروا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ گیانیش کمار استعفیٰ کیوں نہیں دے رہے ہیں۔ اپوزیشن الیکشن کمیشن سے اور حکومت سے سوال کر رہی ہے اور اسی وجہ سے سوال کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور جمہوریت کی حفاظت کرنا ہی ان کا دھرم ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ تحریک طویل ہو سکتی ہے اور اس میں کئی دن یا مہینے لگ سکتے ہیں لیکن اسے روکا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا، "ہماری تحریک کے سامنے حکومت جھک جائے گی، اس کے افسران تھک جائیں گے اور اس کی پولیس بھی تھک جائے گی، لیکن ہماری تحریک نہیں رکے گی۔ "
انہوں نے کہا کہ ملک کی روح اور آئین پر حملہ ہو رہا ہے اور تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر اس کی مخالفت کریں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے تقریباً 200 افسران ان کے رابطے میں ہیں اور آئین کو بچانے کی لڑائی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہوں نے چیف جسٹس سے ملنے کا وقت مانگا تھا لیکن چیف جسٹس نے انہیں عرضی دائر کرنے کے لیے کہا ہے اور اپوزیشن جماعتیں مل کر سپریم کورٹ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی ملک کے مستقبل اور آنے والی نسلوں کے لیے ہے، وہ نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ملک میں ہونے والے واقعات کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے آگے آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان انصاف ملنے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے اور آئین کو بچانے کی لڑائی جاری رکھیں گے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ملک کے عوام کی آواز بیریکیڈ لگا کر روکی نہیں جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ سچائی ہی ملک کی بنیاد ہے اور اپوزیشن کی لڑائی جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لیے ہے۔
