Masarrat
Masarrat Urdu

امریکہ سے بڑی طاقتیں بھی ایران کے خلاف جنگ میں ناکام ہو چکی ہیں، محسن رضائی

  • 12 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

تہران، 12 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکہ سے بڑی طاقتیں بھی ماضی میں ایران کو فتح کرنے کی کوشش کر چکی ہیں، لیکن تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن گئیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، محسن رضائی نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں بار بار شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد مایوسی کے عالم میں اس نے اقتصادی جنگ کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس محاذ آرائی کا خاتمہ کب ہوگا، اس کا فیصلہ امریکہ نہیں بلکہ ایران کرے گا، تہران اپنے جائز مطالبات پورے ہونے تک مزاحمت جاری رکھے گا۔

خطے میں امریکی فوجیوں کی موجودگی پر گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن خطے پر اپنا فوجی ایجنڈا مسلط کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے اسے مغربی ایشیا میں امریکی فوجی موجودگی کی مخالفت پر مبنی ایران کی پالیسی کی کامیابی قرار دیا۔

محسن رضائی نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف امریکی جارحیت کی صورت میں ہتھیار اٹھانے کے لیے 3 کروڑ سے زائد ایرانی شہری ’’جان فدا‘‘ مہم میں اپنا اندراج کرا چکے ہیں۔

ایران کی سفارتی پالیسی کے بارے میں محسن رضائی نے کہا کہ تہران سفارت کاری کے اپنے سابقہ طریقۂ کار کی طرف واپس نہیں جائے گا، تاہم ایران سفارت کاری کو مکمل طور پر ترک بھی نہیں کرے گا۔

انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی تو امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جن میں اہم ڈیٹا نظام اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے سینسرز بھی شامل ہیں۔

محسن رضائی نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر پیدا ہونے والی صورتحال کی بنیادی وجہ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو قرار دیا۔

ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی تازہ ترین جارحیت کے جواب میں آبنائے ہرمز بند کر دی تھی، جس کے نتیجے میں امریکی اور اس کے اتحادی ممالک کے جہازوں کی اس اہم سمندری گزرگاہ سے آمدورفت رک گئی۔

اس اقدام کے بعد دنیا بھر میں تیل اور توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، خصوصاً امریکہ میں توانائی کی قیمتیں بڑھیں۔ اس صورتحال کے باعث واشنگٹن اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کو کئی مرتبہ اپنے تزویراتی ذخائر جاری کرنا پڑے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جون میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز کھول دی تھی، لیکن امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایران نے ایک بار پھر اپنی مسلح افواج کے ذریعے اس اہم سمندری راستے کو بند کر دیا۔

Ads