تہران، 9 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی صدر نے کہا ہے کہ دشمن ایران کا اتنی آسانی سے محاصرہ نہیں کر سکتے، کیونکہ ایران کی سرحدیں 15 ممالک سے ملتی ہیں۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ترکمانستان روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دشمن ایران کا اتنی آسانی سے محاصرہ نہیں کر سکتے، کیونکہ ایران کی سرحدیں 15 ممالک سے ملتی ہیں۔
واضح رہے ایرانی صدر دولتِ مشترکہ کی سربراہ ریاستوں کے دو اجلاسوں میں خصوصی مہمان کی حیثیت سے شرکت اور خطاب کریں گے اور بحیرۂ خزر کے ساحلی ممالک کے سربراہان کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکمانستان جا چکے ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ دورہ ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمداف کی باضابطہ دعوت پر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحیرۂ خزر اس وقت ماحولیاتی خطرات سے دوچار ہے اور اسی وجہ سے بحیرۂ خزر کے ساحلی ممالک کے سربراہان کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت اہمیت رکھتی ہے۔ بحیرۂ خزر آنے والی نسلوں کے لیے ایک سرمایہ ہے اور اگر اس کے ماحول کو نقصان پہنچا تو خزر کے اطراف کے ممالک کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ موجودہ آلودگی، بحیرۂ خزر میں پانی کی آمد میں کمی اور اس کے خشک ہونے کے ساتھ ساتھ آبی حیات کے شکار میں اضافہ، ان مسائل میں شامل ہیں جن سے خطہ دوچار ہے اور اس سفر کے دوران ان امور پر بات چیت کی جائے گی۔
پزشکیان نے تاکید کی کہ اس کے علاوہ ترکمانستان کا یہ سفر ایک اچھا موقع ہے، تاکہ دونوں اجلاسوں میں شریک ممالک کے ساتھ کثیرالجہتی تعلقات، یک طرفہ پسندی کا مقابلہ کرنے اور توانائی کے شعبے میں تعاون سمیت دیگر سیاسی، اقتصادی، سماجی اور سلامتی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ وزراء مختلف کمیشنوں کی صورت میں ترکمانستان پہنچ چکے ہیں اور مذاکرات جاری ہیں۔ یہ ایک اچھا موقع ہے کہ ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کریں اور بحری محاصرے سے پیدا ہونے والے مسائل کو کم کریں۔
پزشکیان نے تاکید کی کہ دشمن ایران کا اتنی آسانی سے محاصرہ نہیں کر سکتے، کیونکہ ایران کی سرحدیں 15 ہمسایہ ممالک سے ملتی ہیں اور ان میں سے ہر راستے کے ذریعے اقتصادی، تجارتی، سیاسی اور سلامتی کے شعبوں میں تبادلے جاری رکھے جا سکتے ہیں۔
ایرانی صدر نے آخر میں امید ظاہر کی کہ یہ سفر اپنے مطلوبہ اور پہلے سے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔
