Masarrat
Masarrat Urdu

بی سی سی آئی نے ہرمن پریت کور کی قیادت اور ہندوستانی کرکٹ میں خدمات کو سراہا

Thumb

ممبئی، 6 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) بی سی سی آئی نے تمام فارمیٹس میں ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتانی کرنے والی ہرمن پریت کور کی قیادت اور ہندوستانی کرکٹ میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ کپتانی چھوڑنے کے باوجود ایک کھلاڑی کے طور پر ٹیم کے لیے ان کا تجربہ اور موجودگی اہم رہے گی۔

ہرمن پریت کی کپتانی کا سفر 2012 میں اس وقت شروع ہوا، جب مِتھالی راج اور جھولن گوسوامی کے زخمی ہونے کے باعث ویمنز ٹی-20 ایشیا کپ کے فائنل میں شرکت نہ کرنے پر نوجوان ہرمن پریت کو ٹیم کی قیادت سونپی گئی۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف 18 رن سے ہندوستان کو فتح دلائی اور ٹیم کو پہلا ویمنز ٹی-20 ایشیا کپ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ہندوستانی ٹیم کی قیادت کا ان کا پہلا تجربہ تھا، جو ایک دہائی سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے سفر کا آغاز ثابت ہوا۔

بی سی سی آئی صدر متھن منہاس نے کہا کہ ہندوستانی کرکٹ کی تاریخ میں بطور کپتان ہرمن پریت کی خدمات ہمیشہ خاص رہیں گی۔ انہوں نے مشکل دور میں ذمہ داری سنبھالی، ٹیم میں اعتماد پیدا کیا اور ہندوستان کو دنیا کی بہترین ٹیموں کے خلاف اعتماد کے ساتھ کھیلنے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ 2025 کا ورلڈ کپ جیتنا ہرمن پریت کی کپتانی کی سب سے بڑی کامیابی رہی، جبکہ ایشین گیمز کا طلائی تمغہ اور ان کے دور میں حاصل کی گئی کئی اہم فتوحات بھی ان کی خدمات کو نمایاں کرتی ہیں۔

منہاس نے ہرمن پریت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ بطور کھلاڑی ہندوستان کی نمائندگی جاری رکھیں گی۔ ان کے مطابق ہرمن پریت کا تجربہ، کھیل کی سمجھ اور ڈریسنگ روم میں موجودگی ٹیم کے لیے قیمتی رہے گی۔

بی سی سی آئی کے اعزازی سکریٹری دیوجیت سائکیا نے کہا کہ ہرمن پریت نے کئی برسوں تک ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے ہندوستانی خواتین کرکٹ کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ شکستوں کی مایوسی کے باوجود ہرمن پریت نے ٹیم اور اس کی مزید بہتر کارکردگی کی صلاحیت پر اعتماد برقرار رکھا، اسی لیے 2025 کا ورلڈ کپ خطاب ان کے لیے اور بھی خاص رہا۔

سائکیا نے کہا کہ کپتانی کی ذمہ داری نئی قیادت کو سونپنے کا ہرمن پریت کا فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب انہیں محسوس ہوا کہ ٹیم ایک نئے باب کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ہرمن پریت کی خدمات کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ ہندوستانی جرسی میں اپنا سفر جاری رکھیں گی اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ان کا تجربہ اور مثال آئندہ بھی اہم ثابت ہوگی۔

 

 

Ads