مسٹر گاندھی نے پیر کے روز سوشل میڈیا 'ایکس' پر کہا، "اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ مسٹر گیانیش کمار نے فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ تبدیلی کی ہے اور یہ تبدیلی واضح طور پر بی جے پی کی مدد کے لیے کی گئی۔ یہ ان کے عہدے کے غلط استعمال کا ایک اور ثبوت ہے۔ اس معاملے کی سازش میں شامل تمام لوگوں کو 'ووٹ چوری' کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔"
انہوں نے کہا کہ آن لائن فارم-6 میں غیر قانونی تبدیلی کی بات الیکشن کمیشن کے اپنے کمشنروں نے بھی درج کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی سامنے آنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن میں کس کے حکم پر ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) سے یہ تبدیلی کروائی گئی۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ گیانیش کمار اور اس معاملے میں شامل دیگر تمام لوگوں کو جمہوریت پر کیے گئے اس مبینہ مجرمانہ حملے کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
مسٹر گاندھی نے اپنے پوسٹ میں 26 ستمبر کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ وضاحت بھی شیئر کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایس آئی آر ( کی مدت کے لیے فارم-6 کے ساتھ منسلک ڈیکلریشن کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔ کمیشن نے کہا تھا کہ غیر ایس آئی آر مدت میں ضوابط کے مطابق لاگو فارم کا استعمال کیا جائے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے پیر کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر کوئی یکطرفہ عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ وہ ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر سے جڑے اہم فیصلے، چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے یکطرفہ طور پر لیے جانے کے الزامات پر پہلے الیکشن کمیشن اور دیگر مدعا علیہان کا موقف سنے گی۔
