کے ایل راہل (ناٹ آؤٹ 129) کی دھواں دار سنچری اور اوپنر روہت شرما کی 92 رنز کی بہترین اننگز کی بدولت ہندوستان نے 50 اوورز میں سات وکٹوں پر 351 رنز کا بڑا اسکور بنایا، لیکن وہ اس کا دفاع نہیں کر سکا۔ ویسٹ انڈیز نے 48.2 اوورز میں پانچ وکٹوں پر 352 رنز بنا کر فتح اپنے نام کر لی۔ شائی ہوپ نے 143 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 162 رنز کی اننگز میں 17 چوکے اور تین چھکے لگائے۔ اس شاندار اننگز کے لیے انہیں پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔
ہوپ نے ریکارڈ ساز اننگز کھیلتے ہوئے تقریباً تنہا ہی ویسٹ انڈیز کو یہ تاریخی فتح دلائی۔ ہوپ ون ڈے کرکٹ میں 150 رنز کا ہندسہ عبور کرنے والے پہلے وکٹ کیپر کپتان بن گئے ہیں۔ 50 اوورز تک وکٹ کیپنگ کرنے کے بعد 48.2 اوورز تک بلے بازی کرکے ہوپ نے اپنے عزم اور جدوجہد کا مظاہرہ کیا۔ اپنی اننگز کے نصف حصے تک وہ چوٹ سے بھی دوچار رہے اور انہیں رنز لینے میں خاصی دشواری ہو رہی تھی۔ ان تمام مشکلات کے باوجود ہوپ نے ویسٹ انڈیز کو فتح دلائی۔
2023 کے بعد پہلی بار ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کے خلاف ون ڈے میں کامیابی حاصل کی ہے اور یہ فتح بھی اس نے 352 رنز کے ہدف کا کامیابی سے تعاقب کرتے ہوئے حاصل کی۔
ہندوستان کے 351 رنز کے جواب میں ویسٹ انڈیز نے فارم میں چل رہے جان کیمبل کی وکٹ جلد گنوا دی، جنہیں محمد سراج نے پاور پلے میں آؤٹ کیا۔ اس کے بعد گزشتہ میچ میں سنچری بنانے والے دو بلے باز ایک ساتھ کریز پر آئے۔ اگرچہ پہلے پاور پلے میں کچھ مواقع ضائع بھی ہوئے، لیکن شائی ہوپ اور عامر جانگو نے اچھی رفتار سے بلے بازی کرتے ہوئے دوسری وکٹ کے لیے سنچری شراکت داری قائم کی۔ جب ایسا محسوس ہونے لگا کہ ہندوستان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا ہے، تب ایک رن آؤٹ کے ذریعے جانگو پویلین لوٹ گئے۔
اس کے بعد ہوپ نے مسلسل دو نصف سنچری شراکت داریاں قائم کیں۔ پہلی شرفین ردرفورڈ کے ساتھ ہوئی، جنہیں ریویو لینے کے باوجود غلط طور پر ’کیچ بیہائنڈ‘ قرار دے کر آؤٹ دیا گیا۔ اس کے بعد کیمو پال کے ساتھ شراکت داری ہوئی۔ یہ ایک اہم شراکت داری تھی۔ ہوپ قدرے جدوجہد کر رہے تھے، جبکہ پال نے جارحانہ انداز اختیار کرکے مطلوبہ رن ریٹ کو قابو میں رکھا۔ 40ویں اوور تک رن ریٹ کے معاملے میں آگے چل رہی ویسٹ انڈیز نے پال کے آؤٹ ہونے کے بعد کچھ رفتار کھو دی۔ آخری پانچ اوورز میں 56 رنز درکار تھے، تب ہوپ نے ایک بار پھر رفتار تیز کردی۔ انہوں نے 46ویں اوور میں کلدیپ کے خلاف ایک چھکا اور ایک چوکا لگایا، اگلے اوور میں گرنور براڑ کے خلاف مسلسل باؤنڈریاں لگائیں اور پھر 48ویں اوور میں میچ تقریباً ویسٹ انڈیز کی جھولی میں ڈال دیا، جب انشول کمبوج نے 22 رنز لٹا دیے۔
اس سے قبل ہندوستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن شبھمن گل اور وراٹ کوہلی کی صورت میں ہندوستان کو ابتدائی جھٹکے لگے۔ پہلے 10 اوورز میں ہندوستان اسکور بورڈ پر محض 28 رنز ہی جوڑ سکا اور حالات بھی تیز گیند بازوں کے لیے سازگار تھے۔ تاہم روہت اور گائیکواڑ نے اننگز کو سنبھالنا شروع کیا۔ روہت دو مرتبہ ڈی آر ایس پر بچ گئے، جبکہ گائیکواڑ کے چار کیچ بھی ڈراپ ہوئے۔ روہت نے نصف سنچری مکمل کرکے ہندوستانی اننگز کو سنبھال لیا۔ وہ سنچری کی جانب بڑھ رہے تھے، لیکن 92 رنز پر ان کی وکٹ گر گئی اور گائیکواڑ بھی نصف سنچری بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئے۔ تاہم اس کے بعد کے ایل راہل نے ہندوستانی اننگز کو سنبھال لیا اور آخر تک کریز پر ڈٹے رہے۔ سنچری اننگز کھیلنے کے ساتھ ہی راہل نے دیگر بلے بازوں کے ساتھ چھوٹی مگر مفید شراکت داریاں بھی قائم کیں۔
راہل نے 87 گیندوں پر 129 رنز کی اپنی اننگز میں 10 چوکے اور چھ چھکے لگائے۔ روہت نے 85 گیندوں پر 92 رنز بنائے، جس میں 10 چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔ رتوراج گائیکواڑ نے 69 گیندوں پر 57 رنز میں ایک چوکا اور چار چھکے لگائے۔ نمن دھیر نے 21 گیندوں پر 30 رنز بنائے، جس میں تین چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے جیڈن سیلز نے 62 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔
