مسٹر ٹرمپ نے پیر کو غزہ کے تنازع کو حل کرنے کے لیے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا۔ اس تجویز میں دیگر چیزوں کے ساتھ فوری جنگ بندی اور 72 گھنٹوں کے اندر یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مجوزہ پلان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حماس اور "دیگر گروپوں" کو غزہ کی حکمرانی میں اپنی براہ راست یا بالواسطہ شمولیت کو ترک کرنا چاہیے۔
تجویز کے مطابق غزہ کی حکمرانی مسٹر ٹرمپ کی سربراہی میں ایک بین الاقوامی ادارہ کی نگرانی میں "تکنیکی، غیر سیاسی فلسطینی کمیٹی" کرے گی۔
پیر کی رات قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی اور مصری انٹیلی جنس کے سربراہ حسن رشاد نے دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو مسٹر ٹرمپ کا منصوبہ پیش کیا۔ مسٹر الثانی نے مبینہ طور پر کہا کہ حماس کو اس سے بہتر معاہدہ نہیں ملے گا اور انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ امریکی صدر حقیقی معنوں میں جنگ کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
منگل کو مسٹر الثانی اور حسن رشاد نے حماس کے ارکان سے دوبارہ ملاقات کی، اس بار ان کے ساتھ ترکی کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن بھی تھے۔
