واضح رہے کہ امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں میں متعدد سینئر سیاسی و عسکری شخصیات شہید ہو چکی ہیں، جس سے ایران کی اعلیٰ قیادت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
آیت اللّٰہ علی خامنہ ای، جو 1989ء سے مضبوط و طاقت ور ایرانی سپریم لیڈر تھے اور امریکا و اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف کے لیے جانے جاتے تھے، 28 فروری کو ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی فضائی حملے میں 86 برس کی عمر میں شہید ہو گئے۔ ان کی 3 دہائیوں سے زائد طویل حکمرانی کے دوران سیکیورٹی اداروں کے ذریعے اقتدار کو مستحکم کیا گیا اور ایران کے علاقائی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا، تاہم جوہری پروگرام پر تنازعات کے باعث مغربی ممالک کے ساتھ کشیدگی برقرار رہی۔
