ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بتایا کہ انہوں نے لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ "دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اپنے ممالک کے درمیان امن کے قیام کے لیے آج شام پانچ بجے (ہندوستانی وقت کے مطابق رات 2:30 بجے) سے 10 دن کی باضابطہ جنگ بندی نافذ کی جائے گی۔"
ٹرمپ کے مطابق، منگل کے روز دونوں ممالک کے نمائندوں نے واشنگٹن ڈی سی میں 34 برس بعد پہلی بار ملاقات کی، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں اسرائیل کی جانب سے امریکہ میں اسرائیلی سفیر یچیل لیٹر شریک ہوئے جبکہ لبنان کی نمائندگی سفیر ندا حمادہ موواد نے کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ روبیو اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین ریزِن کین کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے ساتھ مل کر مستقل امن کے قیام کے لیے کام کریں۔
انہوں نے کہا "دنیا بھر میں نو جنگوں کا خاتمہ میرے لیے اعزاز کی بات رہی ہے اور یہ میرا دسواں ہوگا لہٰذا آئیے اسے مکمل کریں۔"
ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ نیتن یاہو اور عون کو مذاکرات کے لیے وائٹ ہاؤس مدعو کریں گے جو 1983 کے بعد دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان پہلی ملاقات ہوگی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق امن چاہتے ہیں اور یہ جلد ممکن ہوگا۔
قابلِ ذکر ہے کہ 28 فروری کو اسرائیلی-امریکی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے تھے جس کے بعد دونوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی اور جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ اسرائیل نے لبنان میں زمینی فوجی کارروائی بھی شروع کی، جس کے نتیجے میں جنوبی لبنان سے لوگوں کی بڑی تعداد بے گھر ہو گئی اور اس علاقے پر اسرائیلی قبضہ قائم ہو گیا۔
بعد ازاں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے دن اسرائیل نے لبنان پر تقریباً 100 فضائی حملے کیے جن میں 500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ایران نے کہا تھا کہ لبنان کو جنگ بندی میں شامل کیے بغیر وہ اس کی پابندی نہیں کرے گا جس کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات کا آغاز ہوا۔
