Masarrat
Masarrat Urdu

حوثیوں کی جانب سے جنگ بندی کے لیے 51 ارب ڈالر کا مطالبہ کرنے کی رپورٹ سعودی عرب نے مسترد کردی

  • 06 Nov 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

ریاض، 6 نومبر (مسرت ڈاٹ کام) سعودی عرب نے امریکی اخبار ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ (ڈبلیو ایس جے) کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن کی حوثی تحریک نے جنگ بندی کے لیے 51 ارب ڈالر معاوضے اور ملک کی حکمراں اتھارٹی کے طور پر باضابطہ تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اخبار نے جمعرات کو بات چیت سے واقف نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ ریاض نے تنازع کے خاتمے کی شرائط پر غور کرنے کے لیے ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک سے رابطہ کیا تھا۔ ان مذاکرات میں سرحدی جھڑپوں، بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں اور میزائل حملوں کے خطرات جیسے معاملات شامل تھے۔

لیک ہونے والی تفصیلات کے مطابق حوثیوں نے مبینہ طور پر سخت شرائط پیش کرتے ہوئے 51 ارب ڈالر معاوضے کے ساتھ یمن کی حکمراں اتھارٹی کے طور پر باضابطہ تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔تاہم، سعودی عرب کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری اور سفیر رائد کریملی نے اس رپورٹ کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے ان دعوؤں کو من گھڑت قرار دیا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ’’میں دی وال اسٹریٹ جرنل میں اس ملیشیا کے مطالبات کے حوالے سے شائع ہونے والے دعوؤں کی واضح طور پر تردید کرتا ہوں۔ یہ سب کچھ مصنفین یا ان کے مبینہ ذرائع کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔‘‘

کریملی نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کی، ملک میں قحط کی صورت حال پیدا کرنے میں کردار ادا کیا اور یمن کو ایسے تنازعات میں دھکیل دیا جو اس کے مفادات کے خلاف تھے۔

انہوں نے حوثی گروپ پر بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے، شہری اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے پر حملے کرنے اور امن کی کوششوں کو مسترد کرنے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم اخبار کے مصنفین کو یہ بھی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ یمن کی ایک تسلیم شدہ حکومت موجود ہے۔‘‘

ڈبلیو ایس جے کی رپورٹ اور سعودی عرب کی تردید ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مغربی ایشیا میں جاری وسیع تر تنازع کے درمیان سعودی عرب اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔

علاقائی جنگ کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں تہران نے خطے کے مختلف مقامات پر حملے کیے۔

یمن میں بھی جولائی میں اس وقت کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا جب حوثیوں نے سعودی عرب کے یمنی فضائی حدود پر کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی طیارے کو ملک میں اترنے کی اجازت دی تھی۔

اس کے جواب میں سعودی قیادت والے اتحاد کی حمایت یافتہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے صنعا ہوائی اڈے پر حملہ کیا، جو حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔ اس کے نتیجے میں حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس سے یمن کی طویل خانہ جنگی میں 2022 میں ہونے والی جنگ بندی بھی متاثر ہوئی۔

اس کے بعد سے حوثیوں نے سعودی عرب کو نشانہ بناتے ہوئے بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے اور اس کی سرزمین کے علاوہ بحیرہ احمر میں تیل بردار جہازوں پر بھی حملے کیے ہیں۔

 

Ads